Author
-
Pakistani Political Activist and Historian.
کربلا کے شہدا کی روایت ظالم کے احکامات سے انکار اور اس کے ظلم کے آگے ڈٹ جانے کی روایت ہے۔ یہ انکار ایسے وقت میں ہوا جب حق و باطل میں تفریق ختم ہورہی تھی۔ ایک ایسا انکار جس کی قیمت بہت بھاری تھی، جس میں اپنی خواہشات کی قربانی کے ساتھ ساتھ اپنی جان اور اپنے پیاروں کی قربانی بھی دی گئی۔ یہ خون حسینؑ کا انسانیت پر احسان ہے کہ حق و باطل کے درمیان جس لکیر کو یزید مٹانا چاہتا تھا، اس خون نے اس لکیر کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بنی نوع انسان کے لئے واضح کردیا۔ لیکن اس سب کے باوجود کربلا والوں کا حوصلہ اس روایت کی عکاسی کرتا یے جس میں بدترین ظلم سہنے کے باوجود ہمت اور اعتماد کا ایک نہ ختم ہونے والا ذخیرہ موجود تھا جو دنیا کو باور کروا رہا تھا کہ اس بظاہر شکست میں در حقیقت حق پرستوں نے ایک ابدی فتح حاصل کی یے جو صدیوں تک مزاحمت کاروں کو یزید وقت کے آگے ڈٹ جانے کا سبق دیتی رہے گی۔
آج یزیدیت کی بدترین مثال اسرائیل کی غزہ میں جاری نسل کشی میں نظر آرہی ہے جبکہ غزہ کے عوام حسینی لشکر کی طرح بے پناہ حوصلہ کا مظاہرہ کرکے اور بے مثال قربانیاں دے کر دنیا بھر کی عوام کے لئے مشعل راہ ثابت ہورہے ہیں۔ ہم سب پر فرض ہے کہ ان معصوموں کے لئے جہاں پر بھی آواز اٹھا سکیں، لازمی اٹھائیں۔ لیکن اصل امتحان اپنے ملک میں بیٹھے یزیدوں کے خلاف آواز اٹھانا ہے جو لوٹ مار کر کے مہنگائی کا بوجھ غریبوں پر ڈال رہے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت 45 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے رہنے پر مجبور ہیں۔ سینکڑوں لوگ اس وقت سیاسی مقدمات میں بند ہیں جبکہ ہزاروں جبری گمشدگی کا شکار ہیں۔ کئی جگہوں پر پھر سے ملٹری آپریشن کی گونج سنائی دے رہی ہے جو ان حالات میں تباہی کے سوا کچھ نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ نسل پرستی اور فرقہ واریت کی لعنت بھی بڑھ رہی ہے جس کے ذریعے مظلوموں کو تقسیم کرنا مزید آسان ہوجائے گا۔
اصل حسینی روایت ان بیرونی اور اندرونی معاملات پر کھل پر پوزیشن لینا ہے تاکہ آج کے دور میں حق و باطل میں تفریق کی جاسکے اور یزید وقت کی نشاندہی کی جاسکے۔ تمام انقلابی سوچ اور درد انسانیت رکھنے والوں پر شہدا کربلا کا یہ قرض ہے کہ وہ ہر حالت میں سچ کے لئے جستجو کریں اور مظلوموں کے حق میں قربانی دینے سے کبھی گریز نہ کریں۔ یہی قربانی بڑھتی ہوئی بربریت کے سامنے انسانیت کے لئے امید کی کرن ہے۔
کربلا ایک ہی مصرعے میں سنا سکتا ہوں
