Author
-
Pakistani Political Activist and Historian.
ظہران ممدانی نے نیو یارک کے مئیر کے لئے ڈیموکریٹک پارٹی کے اندرونی انتخابات بڑے مارجن سے جیت کر امریکی سیاست میں تہلکہ مچادیا ہے۔ وہ ابھی نیویارک کے مئیر نہیں بنے لیکن جو بھی ڈیموکریٹک پارٹی کا امیدوار بنتا ہے وہ جنرل الیکشن بآسانی جیت جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ظہران ممدانی نیویارک کے پہلے مسلمان مئیر ہونے کے ساتھ ساتھ پہلے سوشلسٹ مئیر بھی ہوں گے۔ ظہران کے والد محمود ممدانی کولمبیا یونیورسٹی کے ایک بہترین مارکسٹ دانشور ہیں جبکہ ان کی والدہ میرا نائر ایک مشہور فلم ڈائریکٹر ہیں۔
اس الیکشن کی خصوصیت دو سطح پر تھیں۔ پہلی بات یہ تھی کہ نیویارک 150 سالوں سے عالمی سرمایہ داری کا گڑھ ہے جہاں پر دنیا کے امیر ترین لوگوں کا غلبہ ہے۔ Wall Street پر عالمی مالیاتی نظام کو کنٹرول کرنے والے اداروں سے لے کر ٹرمپ کی طرح کے دنیا کے سب سے بڑے رئیل اسٹیٹ ایجنٹ اس شہر میں موجود ہیں۔ ان حالات میں سوشلزم یا وسائل کی تقسیم کی بات کرنا بہت حد تک ناممکن تصور کیا جاتا تھا۔
دوسری جانب یہ الیکشن اسرائیل کی مشرقی وسطٰی میں جاری بربریت کے دوران ہوا۔ نیویارک تیل ابیب کے بعد دنیا میں یہودیوں کا سب سے بڑا شہر ہے اور اسرائیل کے لئے ان کے حلقوں میں بہت حمایت پائی جاتی ہے۔ ایسے میں ظہران کی طرف سے فلسطین اور ایران کے حق میں بیانات نے اس کو ایک بہت بڑے طبقے کے لئے ناقابل قبول بنادیا جس نے اس کے مخالف Andrew Cumou، کو بھاری امداد دینا شروع کردی۔ امریکی الیکشن میں پیسے کی اہمیت بہت زیادہ ہوتی ہے اس لئے اکثر لوگوں کا خیال تھا ممدانی مقابلہ کرے گا لیکن جیت نہیں پائے گا۔
ان حالات میں ظہران ممدانی نے ایک بہترین مہم چلائی جس میں غیر ضروری انقلابی لفاظی کے بجائے بنیادی ایشوز کو اٹھایا۔ مثال کے طور پر نیو یارک میں محنت کش طبقے کے لئے مکان کا کرایہ دینا بہت مشکل ہوگیا ہے۔ اس نے کہا کہ میری حکومت نیویارک بھر میں کرایہ بڑھانے پر پابندی لگائے گی جبکہ کھانے کی اشیا سے لے کر ٹرانسپورٹ پر شہریوں کو ریلیف دے گی۔ جب سوال اٹھا کہ اس سب کے لئے پیسے کہاں سے آئیں گے تو اس نے درجنوں بہترین معیشت دانوں کی ٹیم بنا کر پلان دیا جس میں نیو یارک میں دنیا کے امیر ترین باشندوں پر ٹیکس بڑھا کر اس خرچے کو پورا کرنے کا لائحہ عمل دیا گیا۔ دوسری جانب فلسطین کے معاملے پر کھل کر اسرائیلی بمباری کی مخالفت کی جس کی وجہ سے میڈیا میں مخالفت ضرور ہوئی لیکن عام لوگوں، خصوصی طور پر نوجوانوں میں اس موقف کو بہت پذیرائی حاصل ہوئی۔
ان تمام چیزوں کے ساتھ ساتھ ممدانی نے سوشل میڈیا کا زبردست استعمال کیا اور گراس روٹ لیول پر ہر علاقے میں ووٹروں تک رسائی حاصل کی، خصوصی طور پر ان محنت کش لوگوں تک جنہوں نے بہت پہلے مایوس ہوکر الیکشن کے عمل سے کنارہ کشی اختیار کرلی تھی۔ یہ پاکستان کے لئے فخر کی بات یے کہ ہمارے جدوجہد کے ساتھییوں Mohiba Ahmed Raza Gillani اور Zahid Ali نے اس تحریک میں ممدانی کے شانہ بشانہ کام کرکے اس کی جیت میں ایک کلیدی کردار ادا کیا۔
یہ الیکشن راتوں رات سب کچھ بدل نہیں دے گا۔ ممدانی کو مئیر بننے کے بعد شدید سازشوں اور پروپیگنڈا کا سامنا کرنا ہوگا اور ہر مرحلے پر ردانقلابی قوتیں اس کا راستہ روکنے کی کوشش کریں گی۔ لیکن انقلابی سیاست میں ہدف معاشرے میں بحثوں کی سمت تبدیل کرنا ہوتا ہے تاکہ تاریخ کے پہیے کو آگے بڑھایا جاسکے۔ ممدانی ہر فرض ہوگا کہ ہر مرحلے پر وہ جس حد تک ہوسکے اپنے مخالفین کی چالوں کو شکست دے کر نیو یارک کے محنت کشوں کے لئے ریلیف حاصل کرے۔ اگر ممدانی مئیر بننے کے بعد اپنے مقاصد میں ناکام بھی ہوگیا تب بھی اس کی ناکامی ایک نئے پیمانے کے زاویے کے تحت ہوگی جو اس کی اور اس کے ساتھیوں کے جدوجہد کے نتیجے میں معرض وجود میں آیا یے۔ اور تاریخ کے اندر سوچنے کے معیار اور پیمانے بدلنے سے بڑی کامیابی کوئی اور نہیں ہوتی کیونکہ وہ آنے والی نسلوں کے لئے بڑے اہداف کا تعین کرتی ہے۔
اس مہم کی بنیاد طلبا، ٹریڈ یونین، اور معاشرے کی دیگر منظم تنظیمیں تھیں جنہوں نے پیسے کی طاقت کو شکست دی۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ان تنظیموں پر پابندی کے ساتھ ساتھ بلدیاتی الیکشن بھی عرصے دراز سے معطلی کا شکار ہیں۔ ایسے میں معاشرے میں نئی قیادت کا ابھرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ پاکستان میں بھی ملٹرزم، لینڈ مافیا، شوگر مافیا اور دیگر اشرافیہ کے خلاف ایک جامع پلان دے کر بہت بڑی قوت بنائی جاسکتی ہے۔ لیکن اس کی شرط یہ یے کہ چھوٹے گروپوں میں بیٹھ کر بے معنی لفاظی کرنے کے بجائے ہمیں سوشل میڈیا اور گراوئنڈ پر وہ انفراسٹرکچر بنانے کی ضرورت ہے جس کے زریعے پاکستان میں ظہران ممدانی جیسے نوجوان اپنی قائدانہ صلاحیتیں منوا سکیں۔ یہ انفراسٹرکچر بنانے کا بوجھ تاریخ نے ہمارے کندھوں پر ڈالا ہے تاکہ ہمارے باصلاحیت نوجوان بھی ایک دن اس ملک، خطے اور تاریخ کی سمت بدلنے میں کامیاب ہوں
