NE

News Elementor

What's Hot

زہران ممدانی کی تاریخی جیت کے پس منظر اور ممکنہ اثرات پر چند نکات

Table of Content

Author

زہران ممدانی کی تاریخی جیت کے پس منظر اور ممکنہ اثرات پر چند نکات
ا۔ 40 سال سے ہمیں بتایا جارہا تھا کہ انسانی تاریخ سرمایہ داری کی حتمی جیت کے بعد ختم ہوگئی ہے اور سماج میں کسی بھی متبادل بیانئے کی گنجائش موجود نہیں رہی۔ اس “مابعد تاریخ” کا مرکز نیو یارک تھا جو دنیا میں سرمایہ داری، امریکی طاقت اور صیہونی اثر کا گڑھ تھا۔ اسی شہر میں ارب پتی بزنس مین، اسٹیبلشمنٹ کے سیاستدانوں اور صیہونی لابی کی بھرپور مخالفت کے باوجود ممدانی 10 لاکھ ووٹ لے کر الیکشن جیت گیا۔

2۔ ان نتائج کے بعد ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر 2016 میں برنی سینڈرز کی کیمپین سے شروع ہونی والی لیفٹ اور رائٹ کے درمیان تقسیم زیادہ شدت اختیار کرے گی۔ رائٹ پر اسٹیبلشمنٹ کا غلبہ ہے اور وہ یہ بیانیہ بنا رہے تھے کہ عوام کی بھاری اکثریت کبھی بھی انقلابی خیالات کی حمایت نہیں کرے گی۔ لیفٹ کا بیانیہ تھا کہ جتنی عوامی اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ کیمپین کی جائے، اتنا ہی عوام کو اپنے قریب لایا جاسکتا ہے۔ اس جیت سے لیفٹ کا موقف درست ثابت ہوا ہے لیکن ابھی بھی پارٹی کے اندر وسائل اور عہدوں پر رائٹ کو واضح برتری حاصل ہے۔

3۔ کچھ دوست “مہا انقلابی” رویہ اختیار کرکے بلکل غلط تجزیے پیش کررہے ہیں۔ مثال کے طور پر کچھ دوست کہہ رہے ہیں کہ سرمایہ داری میں الیکشن سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اگر کوئی فرق نہیں پڑتا تو ارب پتی خاندانوں نے ممدانی کے خلاف اربوں روپے کیوں خرچے؟ یہ وہی ساتھی ہیں جو کہتے ہیں پاکستان میں الیکشن سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ پھر فوج ہر مقبول سیاسی لیڈر اور پارلیمانی جماعت کے خلاف مسلسل سازش کیوں کرتی ہے؟

4۔ دوسری جانب وہ لوگ ہیں جو الیکشن کی جیت کو ایک حتمی انقلاب کے طور پر پیش کررہے ہیں۔ لیکن اس وقت نیویارک کے اندر اشرافیہ کی طاقت بہت گہری یے، اور ڈیموکریٹک پارٹی بھی مکمل طور پر ممدانی کی حمایت کے لئے تیار نہیں۔ اسی وجہ سے پچھلے کچھ عرصے میں ممدانی فلسطین پر اپنے موقف سے تھوڑا پیچھے ہٹے جبکہ وینیزویلا اور کیوبا کو “آمریت” کہہ کر اپنے آپ کو امریکی خارجہ کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی ہے۔

5۔ اس الیکشن کا امریکی سفید فام شہریوں اور رجعتی کرسچن حلقوں پر گہرا اثر پڑے گا۔ ٹرمپ ابھی سے یہ بیانیہ بنا رہا یے کہ ایک مسلم سوشلسٹ کا الیکشن جیتنا اسلام اور کمیونزم کا امریکہ پر حملہ ہے۔ اس بیانئے کو لے کر امریکہ بھر میں رجعتی قوتیں اپنی نفرت انگیز سیاست کو مزید تیز کریں گی۔

6۔ ان حالات میں ممدانی کے پاس کوئی جادو کی چھڑی نہیں ہوگی جس سے وہ مسائل حل کر سکے۔ اس کی کامیابی کی بنیاد سماج میں بڑھتی ہوئی طبقاتی تقسیم اور محنت کش طبقہ کا نوجوانوں کے ساتھ اتحاد ہے۔ اس اتحاد کو کس حد تک مزید منظم کیا جاسکتا ہے، کس حد تک اس کا شعور صرف امریکی معاملات نہیں بلکہ عالمی سامراج مخالف جدوجہد سے جوڑا جاسکتا ہے، اور کس حد تک عوام کی وسیع پرتوں خصوصی طور پر چھوٹے شہروں کے محنت کش کے ساتھ رشتہ بنایا جاسکتا ہے، یہ وہ سوالات ہیں جو مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔ یعنی ذاتی جھکاؤ سے زیادہ اہم سیاسی لائحہ عمل ہوگا جو تعین کرے گا کہ حالات انقلابی تبدیلی کی طرف بڑھیں گے یا پھر رجعتی قوتیں اس موقع سے فائدہ اٹھائیں گی۔

7۔ سب سے خوش آئند بات یہ ہے کہ ممدانی نے ثابت کیا کہ ترقی پسند سیاست صرف مزاحمت کا نام نہیں۔ 1990 کی دہائی کے بعد بائیں بازوں کی ساری سیاست صرف تنقید اور مظاہروں کی حد تک محدود ہوگئی تھی۔ ہم بھی اسی کلچر میں لیفٹ میں شامل ہوئے۔ لائحہ عمل اور طاقت کے حصول کا سوال لیفٹ کی بحث سے سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد مکمل طور پر غائب ہوچکا تھا۔ سرکار کا بائیکاٹ سرکار حاصل کرنے سے زیادہ اہمیت کا حامل تھا۔ یہی معاملات امریکی لیفٹ میں بھی پائے جاتے تھے۔ لیکن ممدانی کی مہم نے لوگوں کو یہ یاد کروایا ہے کہ سماجی تحریکیں یا مظاہرے جتنے بھی بڑے ہوجائیں، حکمران طبقات کے لئے حقیقی چیلینج وہ قوت بنتی یے جو اس انرجی کو استعمال کرکے حکمران طبقات سے اقتدار چھیننے کی طرف قدم بڑھاتی یے۔ اسی لئے ممدانی کو رجعتی قوتوں سے نفرت کا شدید سامنا کرنا پڑا کیونکہ اس کی کیمپین صرف ذہن سازی نہیں کررہی تھی بلکہ اقتدار حاصل کرنے کا واضح لائحہ عمل پیش کررہی تھی۔

8۔ پاکستان اور دیگر ممالک کے اپنے مخصوص حالات ہیں جن میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا غلبہ اور سیاسی پارٹیوں میں عدم جمہوریت اہم جز ہیں۔ لیکن دنیا بھر کی طرح اب پاکستان کے اندر میں یہ بحث تیز ہوگی کہ مزاحمت کے ساتھ ساتھ ایک متبادل پلیٹ فارم کیسے تشکیل دیا جائے اور الیکشن سمیت کن حربوں کے ذریعے عوامی نمائندوں کو طاقت کے ایوانوں تک پہنچایا جایا۔ اس طرح ممدانی کی جیت اگر ایک طرف عالمی اشرافیہ اور نفرت کے پوجاریوں کو متحرک کرے گی، تو دوسری جانب دنیا بھر میں عوام دوست قوتوں کو بھی یہ اعتماد بخشے گی کہ وہ ایک سنجیدہ لائحہ عمل بنانے کے لئے بحثوں کا آغاز کریں۔

9۔ تاریخ ایک بار پھر میدان جنگ بن گئی ہے جہاں عالمی سطح پر سوشلزم اور سرمایہ داری نظام کی نظریاتی اور عملی لڑائی بڑھتی چلی جائے گی۔ اس لڑائی میں نیوٹرل رہنا آپشن نہیں ہوگا۔ ممدانی کے الیکشن نے ممکن اور نا ممکن کے زاویے بدل دیئے ہیں۔ اب ایک بار پھر ناممکن کے لئے لڑنا ممکن، اور فرض ہوچکا ہے

Ammar Ali Jan

Pakistani Political Activist and Historian.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Recent News

Trending News

Editor's Picks

عالمی آرڈر مکمل طور پر ختم ,وینیزویلا پر حملہ

Author Ammar Ali Jan Pakistani Political Activist and Historian. آج عالمی آرڈر مکمل طور پر ختم ہوچکا ہے۔ کئی ماہ سے امریکہ وینیزویلا کی حکومت پر منشیات کی سمگلنگ کا الزام لگا رہا تھا۔ آج بغیر کسی عالمی تحقیقات کے امریکہ نے نہ صرف وینیزویلا پر حملہ کیا، بلکہ یہ بھی دعوہ کیا کہ اس...

“گوشت” ناول مین بکر انعام جیت گیا۔

Author Dr. Furqan Ali Khan Medical doctor, activist ,writer and translator ” گوشت ” ایک غیر روایتی غربت سے دولت مند ہونے تک کی کہانی ہے۔ اس کتاب کا مرکزی کردار،” استوان ” کی کہانی کے ساتھ کھلتی ہے، جو کہ ہنگری کے ایک ہاؤسنگ پروجیکٹ میں رہنے والے ایک شرمیلا اور عجیب و غریب...

کچھ ایرانی ناول” اکائی”(منِ او) کے بارے میں

Author عبدالوحید افسانہ نگار ایرانی ناول “اِکائی ” (فارسی نام منِ او) نوے اور دوہزار کی دہائیوں کا ایران میں سب سے زیادہ پڑھا جانے والا ناول ہے۔ اِس کے لکھاری رضاامیر خانی ہیں جنھیں ایران کے سب سے بڑے ادبی ایوارڈ” جلال آل احمد ایوارڈ “سے نوازا جا چکا ہے، ایران میں خاصے مقبول...

خالد فتح محمد کی دو طویل کہانیاں

Author عبدالوحید افسانہ نگار خالد فتح محمد ہمارے عہد کا جانا پہچانا نام ہے۔ پاکستان میں پچھلے بیس سالوں میں جتنا فکشن کا کام اُن کاسامنے آیا ہے شاید ہی کسی اور کا ہمارے سامنے آیا ہو۔ ابھی حال ہی میں ان کی دو طویل کہانیوں پر مبنی کتاب ” 2 طویل کہانیاں ” کے...

ٓ کتاب استعمار اور محکوم پر ایک اظہاریہ

Author عبدالوحید افسانہ نگار ابھی حال ہی میں البرٹ میمی کی شہرہ آفاق کتاب colonizer and colonized کا اردو ترجمہ جناب وقار فیاض صاحب نے” استعمار اورمحکوم “کے عنوان سے کیا ہے۔ مجھ جیسے لوگ جو انگلش میں پورے پورے ہیں اُن کے لیے یہ ترجمہ شدہ کتاب خاصی اہم ہے کیونکہ یہ کتاب اپنے...

News Elementor

Right Info Desk – A Different Perspective

Popular Categories

Must Read

©2025 – All Right Reserved by Right Info Desk