Author

خالد فتح محمد ہمارے عہد کا جانا پہچانا نام ہے۔ پاکستان میں پچھلے بیس سالوں میں جتنا فکشن کا کام اُن کاسامنے آیا ہے شاید ہی کسی اور کا ہمارے سامنے آیا ہو۔ ابھی حال ہی میں ان کی دو طویل کہانیوں پر مبنی کتاب ” 2 طویل کہانیاں ” کے عنوان سے منظر عام پر آئی ہے۔ دونوں کہانیوں میں خالد فتح محمد کا رنگ واضح طور پر دیکھا جاسکتاہے۔ جب میں بات کرتا ہوں خالد فتح محمد کا واضح رنگ تو یاد رکھیں ایک طرف تو اُس فکشن میں عورت کا مضبوط کردار(جو کہ کسی حد تک پرُاسرار بھی ہوتاہے) بہت مضبوطی کے ساتھ ہمارے سامنے آتا ہے،دوسری طرف جنسیت انتہائی دھیمی آنچ پر اپنی تمام تررعنائیوں، پیچیدگیوں اور دانش کے ساتھ ہمارے سامنے جلوہ گر ہوتی ہے۔ خالد فتح محمد کا ایک اختصاص یہ بھی ہے کہ اُن کے فکش میں زیادہ تر کردار تعمیری نوعیت کے ہوتے ہیں خاص طور پر اُن کے کردار وں کا معاشی پہلو ہمارے سامنے بہت واضح انداز سے اجاگر ہوتاہے۔ اِ ن دو طویل کہانیوں میں بھی خالد فتح محمد اپنے اسی رنگ میں ہمارے سامنے آئے ہیں۔ پہلی کہانی” رائیگاں یا بارور ” میں رخشی نامی خاتون کی تنہائی، جنسی زندگی اور معاشی زندگی کو خالد فتح محمد نے ہمارے سامنے رکھا ہے۔ یہ افسانہ رخشی کے چار مردوں اور ایک عورت کے ساتھ” ماورائے نکاح ” جنسی تعلقات کو بیان کرتا ہے اور یہ بات بھی واضح ہے اِس افسانے میں کہ ہر مرد کے ساتھ رخشی کے جنسی تعلق کی نوعیت مختلف ہے۔ کسی کے ساتھ ذہنی قربت بہت زیادہ ہے تو کسی کے ساتھ جسمانی قربت بہت زیادہ بلکہ ایک جنسی تعلق جو اپنے سے چھوٹی عمر کے مرد کے ساتھ قائم ہوتا ہے اُس میں رخشی کی طرف سے زیادہ تڑپ نہیں ہے نا ہی دوسری طرف سے ایسی تڑپ ہے بلکہ مرد کی طرف سے ایک عقیدت کا پہلو یوں سامنے آتا ہے کہ دمِ رخصت مرد جاتے ہوئے رخشی کے گھٹنوں کو ہاتھ لگا کر جاتا ہے۔ ایسے ہی رخشی کے کبری نامی لڑکی کے ساتھ بھی تعلقات ہے جس میں اونیچ آتی رہتی ہے لیکن یہ تعلق تادم مرگ جاری رہتاہے۔ اس افسانے میں رخشی کی معاشی زندگی کو بھی ساتھ ساتھ چلایا گیا ہے کہ کیسے وہ ایک غریب گھرانے سے اُٹھ کر پہلے سکول میں اُستانی لگتی ہے پھر کالج میں لیکچرار بن جاتی ہے اور پھر یونیورسٹی میں پڑھانے کے ساتھ ساتھ ٹی وی ٹاک شوز میں بھی بطور تجزیہ کار آنے لگتی ہے۔ معاشی پہلو پر آتے ہوئے خالد فتح محمد معاملات کو بہت ہی سادا انداز میں بیان کر گئے ہیں اور یوں گمان ہوتا ہے جیسے معاشی کامیابیاں خود رخشی کا تعاقب کر رہی ہو ں اور رخشی اُن سے بے اعتنائی برتتی ہوئی لیکن قبول کرتی ہوئی آگے ہی آگے بڑھتی چلی جارہی ہو۔
اس کتاب کی دوسری کہانی” سول لائن کا بھوت بنگلہ ” اپنے اندر پراسراریت سمیٹے سیٹٹھ دھنی رام، کجن بائی اور ڈیوڈ کی زندگیوں کا احاطہ کرتی ہے۔ یہ کہانی تتقسیم سے پہلے کے گوجرانوالہ شہر کی ہے۔ کہانی کا آغاز سیٹھ دھنی رام سے ہوتاہے جو گوجرانوالہ کے سول لائن کے علاقے میں چرچ سے ملحقہ زمین پر اپنے لیے ایک لکڑی کا گھر تعمیر کرنا چاہتاہے۔ گھر کی تعمیر میں سیٹھ کسی طرح کی کوئی کمی نہیں چھوڑتا۔ سیٹھ کی خواہش تھی کہ گھر کے افتتاح والے دن ملتان سے آئی کجن بائی اپنے فن گائیکی کا مظاہرہ کرے۔ کجن بائی آتی تو وہاں عارضی طور پر ہے لیکن اُس کے دل میں خواہش جنم لیتی ہے کہ ہمیشہ کے لیے سیٹھ کے پاس رہ جائے۔ کہانی میں کشمکش کا آغاز گھر کے افتتاح والے دن سے ہوتاہے جب اُس محفل میں ایک بن بلایا مہمان انگریز ڈیوڈ بھی چلا آتاہے۔ ڈیوڈ کالونیل سماج کے نمائندہ کردار کے طور پر رسامنے آتا ہے ایک ایسا کالونائزر جو کالونی کی ہر چیز کو اپنی جاگیر سمجھتاہے۔ اُس کے اِس رویے کے سبب سیٹھ دھنی رام، کجن بائی اور ڈیوڈ کے درمیان ایک کشمکش پیدا ہوتی ہے وہ کشمکش آگے چل کر کیا رنگ اختیار کرتی ہے، سیٹھ دھنی رام کی محفل میں شرکت کرنے والے انگریز ڈیوڈ کا ارداہ کیا تھا، کیا کجن بائی ہمیشہ کے لئے سیٹھ کے پاس رک جاتی ہے یا واپس ملتان چلی جاتی ہے یا یہ کہانی کوئی اور نیا رخ اختیار کرتی ہے اور اہم بات یہ کہ سیٹھ دھنی رام کے اُس گھر کا نام سول لائن کا بھوت بنگلہ کیوں رکھا گیا یہ تو کہانی پڑھ کر ہی پتا چلے گا۔لیکن ایک بات طے ہے کہ کہانی کی پراسرار فضا بنانے میں خالد فتح محمد مکمل کامیاب رہے ہیں اُس کی وجہ شاید اُن کا خاص رنگ ہے جس کے اندر اِن بِلٹ پراسراریت ہوتی ہے۔ سول لائن کے بھوت بنگلے کے حوالے سے جس طرح کی منظر نگاری اور افواہ سازی کا بیان کیا گیا وہ قاری پر اپنا دیرپا تاثر چھوڑنے کے لیے کافی ہے۔ خالدفتح محمد نے دونوں کہانیوں کو ٹِک کر لکھا ہے بغیر یہ سوچے کہ اب طویل کہانیاں پڑھنے کا ٹرینڈ کم ہی ہے۔ اپنی کہانی اور اُسے اُس کے پورے دروبست کے ساتھ بیان کرنے کا خالد فتح محمد کا اعتماد قابلِ ستائش ہے۔ یہ کتاب ملتان انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اینڈ ریسرچ ملتان نے چھاپی ہے کتاب کی قیمت 600روہے ہے جس پر یقینی طور پر رعائت بھی ملے گی۔
