Author
-
Pakistani Political Activist and Historian.
آج دہشت گردوں نے مولانا خانزیب کو شہید کردیا۔ مولانا خانزیب اے این پی کے لیڈر تھے اور پختون خواہ میں دہشت گردی اور عسکری بدمعاشی کے بھرپور مخالف تھے۔ ان کی عزت ان کے مخالفین بھی کیا کرےے تھے کیونکہ وہ ایک نظریاتی اور ایماندسر سیاسی کارکن تھے۔ ان کی شہادت ملک بھر میں امن پسندوں کے لئے پیغام ہے کہ یا تو خاموش ہوجاو یا مرنے کی تیاری کرو۔ یہ ان تمام آوازوں کو دبانے کی کوشش ہے جو سوال کررہی ہیں کہ آخر کب تک ہمارے وطن میں لاشوں کے سوداگر ہماری قسمتوں کا فیصلہ کرتے رہیں گے۔
مولانا صاحب مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کے بھی شدید مخالف تھے اور اس کو ایک استعماری حربہ سمجھتے تھے۔ میں خود بہت عرصے سے لکھ رہا ہوں کہ جب تک شفافیت اور مقامی لوگوں کی رضامندی شامل نہیں ہوگی، تب تک معدنیات کے معاہدے لوٹ مار کے ساتھ ساتھ تشدد کے واقعات میں بھی بھرپور اضافہ کریں گے۔ افریقہ اور لاطینی امریکہ کے ممالک میں ہمیں معدنیات کی لڑائی کی یہی تاریخ ملتی ہے۔پاکستان، خصوصی طور پر پشتوں علاقوں، کو ایک بار پھر چند لوگوں کی لالچ کی خاطر میدان جنگ بنایا جارہا ہے جس سے صرف تباہی ہمارا مقدر بنے گی۔
مزید افسوس اس بات کا ہے کہ مولانا خانزیب کے غم سے نڈھال حمایتیوں پر آج آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی۔ اگر ریاست انصاف دینا چاہتی ہے تو پھر سوال اٹھانے والوں پر یہ خوفناک تشدد، جبکہ دہشت گردوں کے آگے بے بسی کا مظاہرہ کرکے عوام کو کیا پیغام دے رہی ہے؟ لوگ کیسے اعتبار کریں گے اور کیوں یہ سوال نہیں اٹھائیں گے کہ ریاست اور قاتل میں کیا فرق ہے؟ ہوش کے ناخن لیں، لوگوں کے جذبات کو سمجھیں اور عوام کی مشاورت سے کوئی واضح پالیسی بنائیں ورنہ آپ خطے کو تباہی کی طرف دھکیل دیں گے۔
پاکستان بھر میں رہنے والے شہریوں کی آج ذمہ داری ہے کہ مولانا خانزیب اور پختون خواہ کے عوام کے حق میں کھل کر بولیں۔ جو لوگ پاکستان پر بھارتی جارحیت کی مخالفت کررہے تھے،ان پر بھی یہ فرض ہے کہ وہ سابقہ پشتون عوام اور مشران کی آواز بنیں کیونکہ یہ لڑائی کسی علاقے تک محدود نہیں رہے گی۔ اس ملک میں ہمارے مقدر آپس میں جڑے ہوئے ہیں اور اگر حالات ٹھیک نہ ہوئے تو ایک دن یہ آگ لاہور، اسلام آباد اور کراچی تک بھی پہنچے گی۔
اے این پی کے لیڈران سمیت تمام پشتوں رہنمائوں سے ہم اظہار یکجہتی کرتے ہیں اور یہ یقین دلاتے ہیں کہ جو جنگ واشنگٹن کے کہنے پر ہمارے خطے پر مسلط کی جارہی ہے، اس میں ہم اپنے پشتوں بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ مل پنجاب سمیت پورے پاکستان میں آواز اٹھائیں گ
