Author
-
Pakistani Political Activist and Historian.
اسرائیلی حکومت دعوی کررہی ہے کل رات جنرل علی شادمانی کو شہید کردیا گیا ہے۔ جنرل شادمانی کو 5 دن قبل جنرل غلام علی عابد کی شہادت کے بعد ایرانی فوج کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔ ایران بہت جرات سے صہونی جارحیت کا مقابلہ کررہا ہے اور اس کی اعلی قیادت بے شمار قربانیاں بھی دے رہی ہے۔ یہ بات سب کو واضح ہوجایی چاہئے کہ اس جارحیت کا مقصد نہ ایٹمی ہتھیاروں کو روکنا ہے اور نہ ہی ایران میں جمہوریت لے کر آنا۔ واحد مقصد رجیم چینج ہے جس کے زریعے پورے خطے پر صہونی قوتوں کی حکمرانی کو یقینی بنایا جاسکے۔
مزید خوفناک بات یہ ہے کہ ٹرمپ اب کھل کر امریکی مداخلت شروع کرنا چاہتا ہے اور اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کی تیاری کررہا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اسرائیل کا یہ اندازہ غلط ثابت ہوگیا یے کہ عسکری قیادت کی شہادت کے بعد عوام ایرانی حکومت کے خلاف بغاوت کردیں گے۔ اب صرف بمباری کے ذریعے ایران کو کچل کر ہی رضا پہلوی جیسے غداروں اور وطن فعوشوں کو تباہ شدہ معاشرے پر مسلط کیا جاسکتا ہے۔ لیکن امریکہ، اور خصوصی طور پر ٹرمپ کے اپنے حمایتیوں کی ایک بڑی تعداد اس جنگ کے خلاف ہے۔ اس لئے دیکھنا ہوگا کہ کیا امریکہ افغانستان اور عراق میں بدترین شکست کے بعد ایک ایسے ملک میں داخل ہونا چاہے گا جس میں حب الوطنی کی ایک قدیم روایت موجود ہے۔
استعمار کی حکمت عملی یہ ہے کہ کوئی بھی ملک سر اٹھائے، اسے کچل دو اور وہاں پر حکومت کو تبدیل کرکے وطن فروشوں کو بٹھا دو۔ مشہور دانشور طارق علی نے کہا ہے کہ امریکہ ایران کی تباہی میں اس لئے بھی دلچسپی لے رہا یے کیونکہ وہ چین کے Belt and Road Project کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ خدشہ ہے کہ اب پاکستان کے ایک طرف امریکی نواز ہندوتوا ہوں گے تو دوسری جانب صہونی قوتوں کا کٹھ پتلی رضا پہلوی۔ غزہ، لیبیا۔ عراق، شام، یمن اور ایران کے بعد پاکستان کی باری بھی آئے گی۔ نظریاتی اور اخلاقی بحثوں سے ہٹ کر بھی دیکھیں تو اس وقت ایران کا دفاع پاکستان کے بھی وجود کا سوال ہے کیونکہ صہونی بربریت کے آگے سب کی قسمت ایک دوسرے کے ساتھ جڑ گئی ہے۔
وہ لبرل یا لیفٹ کے دوست جو اب بھی ایران میں انسانی حقوق کا واویلا مچا رہے ہیں، وہ مغربی پروپگینڈے کا اتنا شکار ہیں کہ ان سے کسی خیر کی توقع نہیں رکھنی چاہئے۔ لیکن جو لوگ آج بھی اس کو فرقہ وارانہ مسئلہ بنارہے ہیں، انہیں ہوش کے ناخن لینے چاہئے۔ غزہ میں زیادہ تر سنی مسلمان اور عیسائی شہریوں کی نسل کشی ہورہی ہے جس کی حمایت کرنے پر ایران کو یہ خوفناک سزا دی جارہی ہے۔ یہ مذہب یا قومیت یا لسانیت کا مسئلہ نہیں، یہ بنیادی انسانیت کا سوال ہے جس کو اس وقت صہونی ریاست دنیا بھر کی نظروں کے سامنے پامال کررہی ہے۔
اگر ایران کی حکومت صہونی قوتوں کے ہاتھ آگئی تو عالمی صورتحال یکسر سامراج کے حق میں تبدیل ہوجائے گی۔ ماضی میں سو اختلافات کے باوجود آج ایران کے جو کمانڈر فرنٹ لائن پر کھڑے ہوکر شہید ہورہے ہیں، انہیں فلسطین کے مزاحمت کاروں کی مدد کرنے کی سزا مل رہی ہے۔ ان تمام لوگوں کو سلام جو خطے میں سامراجی غلبے کے سامنے آخری دیوار کی علامت بن کر ڈٹ کر مقابلہ کررہے ہیں۔ ان کی لڑائی ہم سب کی لڑائی ہے۔ کل ایران کے پارلیمنٹ میں “تشکر پاکستان” کے نعرے بلند ہوئے جو کے ایک خوش آئیند بات ہے۔ بردباری اور بہادری کے ساتھ پاکستان کو ایران کا ساتھ دینا چاہئے اور واشنگٹن کی طرف سے کسی بھی قسم کی لالچ یا چھوٹے فائدے کے لئے اپنی سالمیت اور اس خطے کے مستقبل کو قربان نہیں ہونے دینا چاہئے۔
