NE

News Elementor

What's Hot

ایران پر صہونی جارجیت کا مقصد رجیم چینج یعنی حکومت کا تختہ الٹا کر ایک کٹھ پتلی حکومت

Table of Content

Author

ایران پر صہونی جارجیت کا مقصد رجیم چینج یعنی حکومت کا تختہ الٹا کر ایک کٹھ پتلی حکومت قائم کرنا ہے۔ اس تصویر میں نیتن یاہو کے ساتھ رضا پہلوی موجود ہیں جن کو موجودہ حکومت کی جگہ اسرائیلی بمباری کے ذریعے ایران پر مسلط کرنے کی تیاری ہوچکی ہے۔ یہ محمد شاہ رضا کے صاحبزادے ہیں جنہوں نے 37 سال ایران پر حکومت کی۔ ان کی حکومت جبر، لوٹ مار اور خطے میں امریکی غلامی کرنے کی ایک نمایاں مثال تھی۔

محمد مصدق ایک بہادر لیڈر تھے جو 1951 میں سوشلسٹ تحریک کی مدد سے منتخب ہوکر اقتدار میں آئے اور انہوں نے ایران میں برطانوی تیل کمپنیوں کو قومی تحویل میں لے لیا۔ اس کے ان کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ ہوا کیونکہ ایران کے تیل سے منافع یورپی اور امریکی کمپنیاں کماری تھیں۔ 1953 میں سی آئی اے نے رضا شاہ کے ساتھ مل کر مصدق کے خلاف فوجی بغاوت کروائی اور پارلیمنٹ کو ختم کرکے رضا شاہ کو ایران کا آمر بنادیا۔ رضا شاہ کی حکومت نے سی آئی اے کی مدد سے SAVAK کے نام سے ایک بدترین خفیہ ایجنسی بنائی جس کا کام سوشلسٹوں سمیت ہر مزاحمت پسند کو گرفتار، ٹارچر اور قتل کرنا تھا۔

پوری دنیا میں شاہ کی حکومت کو بربریت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ کرپشن، لوٹ مار، امریکی اور اسرائیلی حمائت کے ساتھ ساتھ اندرونی جبر کی وجہ سے شاہ خطے کے غیر مقبول ترین لیڈران میں سے ایک تھا۔ یہی وجہ ہے کہ 1979 میں ایک بھرپور عوامی تحریک کی وجہ سے شاہ کو ملک چھوڑنا پڑا جس کے بعد اقتدار امام خمینی سمیت اپوزیشن کے کئی دھڑوں نے سنبھال لیا جبکہ شاہ اپنے بیٹے رضا پہلوی سمیت جلاوطن ہوگیا۔ امریکہ نے ایران کو سزا دینے کے لئے 1980 میں عراق کے ذریعے جنگ مسلط کی جس کی وجہ سے نا صرف ایران کی ترقی کو روک دیا گیا بلکہ اندرونی طور پر بھی ایران کو سکیورٹی سٹیٹ بننے پر مجبور کردیا۔ عراق جنگ، اور امریکی اسرائیلی محاصرے کی وجہ سے ایران سکیورٹی سٹیٹ بننے پر مجبور ہوگیا اور اپوزیشن کے اکثر دھڑے انقلاب سے علیحدہ ہوگئے جبکہ نئی حکومت نے بھی کئی اپوزیشن لیڈران پر پابندیاں اور جبر کے ہتھکنڈے استعمال کئے۔

مجھے حیرانگی ہوتی ہے جب ہمارے لبرل دوست شاہ کے دور کو، جس میں ہر نظریے کو لوگوں پر انتہا کا جبر ہوا, رومانوی انداز میں یاد کرتے ہیں۔ نا صرف اس وقت جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں تھی، بلکہ سماجی پستگی بھی شدید تھی۔ مثال کے طور شاہ کے دور میں امریکی امداد کے باوجود خواندگی کی شرح 40 فیصد جبکہ ایرانی انقلاب کے بعد آج شرح خواندگی 90 فیصد کے قریب ہے جس میں بڑی تعداد خواتین کی ہے۔ یہ سب امریکی اقتصادی پابندیوں کے باوجود حاصل کیا گیا ہے۔ لیکن لبرل اور واشنگٹن نواز لیفٹ اس ساری تاریخ کو مسخ کرکے اپنا سارا بیانیہ اس بات پر بناتے ہیں کہ اشرافیہ کی چند خواتین نکر پہن کر گھوم سکتی تھیں۔ ان تصاویر کی بنیاد پر یہ بیانیہ بنایا جارہا ہے کہ نیتن یاہو کی بمباری کے ذریعے ایران کی خواتین کو ایک پھر “آزاد” ہونے کا موقع ملے گا۔

رضا پہلوی واشنگٹن، لندن اور تیل ابیب کے مسلسل دورے کررہا ہے اور ان سے اقتدار کی بھیک مانگ رہا ہے۔ وہ کہہ رہا ہے کہ اپنے والد کی روایت کو واپس لائے گا۔ اس بے شرم انسان کو SAVAK کے کرتوت یاد نہیں جس نے اس کے والد کے لئے ہزاروں لاکھوں لوگوں کا قتل عام کیا اور الیکشن تک نہ ہونے دئے۔ ایران میں آج controlled جمہوریت ہی سہی لیکن شاہ کے مقابلے میں آج الیکشن زیادہ سنجیدہ اور جاندار ہوتے ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر یہ بات ہے کہ پہلوی نے اسرائیل میں نیتن یاہو کے ساتھ بیٹھ کر کہا ہے کہ ہم اقتدار میں آنے کے بعد اسرائیل اور ایران کے درمیان “تاریخی تعلقات” کو بحال کریں گے اور اپنے ملک کا ایک پیسہ بھی فلسطین پر “ضائع” نہیں ہونے دیں گے۔ اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا میں فلسطین کے حق میں دھرنے میں بیٹھے طالب علموں پر پہلا حملہ صہونی قوتوں نے نہیں بلکہ پہلوی خاندان کے حمایتی جلاوطن ایرانی باشندوں نے کیا تھا۔

افغانستان پر حملہ عورتوں کے حقوق کے نام پر ہوا۔ عراق پر حملہ جمہوریت کے نام پر ہوا۔ لیبیا اور شام پر حملے انسانی حقوق کے نام پر ہوئے۔ یمن میں حملہ دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر ہوا۔ ایک ایک ملک آج تباہ ہے۔ افغانستان میں حامد کرزئی نے دعوہ کیا کہ وہ مقبول ہے اور عراق میں Chalabi نامی شخص نے کہا کہ وہ اقتدار سنبھال کر عراق کو یکجا کرے گا۔ دونوں جھوٹے نکلے۔ آج یہی کھیل پہلوی کھیل رہا ہے۔ لیکن اسرائیلی اور امریکی اتنے بھولے نہیں۔ انہیں حقیقت معلوم ہے لیکن اصل مقصد ایرانی ریاست کو تباہ کرنا ہے تاکہ وہاں پر صہونی ایجنٹ مسلط ہوں اور پورا خطہ تباہ حال ہوکر صرف امریکہ اور اسرائیل سے بھیک مانگنے کے قابل رہ جائے۔

میں نے واشنگٹن میں دیکھا ہے کہ ایرانیوں کی طرح کئی ایسے پاکستانی بد بخت بھی موجود ہیں جو امریکی حکام پر زور ڈال رہے ہوتے ہیں کہ پاکستان پر پابندیاں لگائیں یا فوجی کاروائی کرکے ملک کو توڑیں۔ اس پالیسی کا نتیجہ ایک بھی ملک میں اچھا نہیں نکلا کیونکہ امریکہ نے جہاں بھی بمباری کی ہے، صرف تباہی برپا کی ہے۔ افغانستان عراق شام لیبیا اور یمن میں ہزاروں نہیں، لاکھوں معصوم لوگ شہید ہوئے ہیں لیکن ایک جگہ بھی امن یا ترقی نہیں ہوسکی۔ اندرونی تضادات کو اندرونی جدوھہد کے ذریعے کی حل کیا جاسکتا ہے، اپنے معاشرے کو تباہ کرکے امریکہ اسرائیل یا ہندوستان کے رحم و کرم پر چھوڑ کر “آزادی” نہیں ملتی بلکہ بدترین غلامی اور شرمندگی ہمیشہ کے لئے معاشرے کا مقدر بنتی یے۔

فلسطین کی مزاحمت نے کئی سال تک اسرائیل توسیع پسندی کو کچھ حد تک روکے رکھا۔ 2003 کے بعد عراقی مزاحمت نے امریکی توسع پسندی کی رفتار کو کم کرنے میں مدد دی کیونکہ امریکی عوام کے اندر براہ راست جنگ کے لئے نفرت بڑھ گئی۔ آج اگر ایران جس حد تک بھی امریکی اسرائیلی اور خلیجی گٹھ جوڑ سے مزاحمت کرنے میں کامیاب ہوتا ہے، وہ ان ممالک کی توسیع پسندی کے عزائم کو روکنے میں مدد دے گا۔

یہی وجہ ہے کہ فلسطین کی قومی آزادی کی تحریک بشمول وہاں کی کیمونسٹ پارٹی Popular Front For The Liberation of Palestine نے ایرانی حکومت کی مزاحمت کی کھل کر حمایت کرنے کے ساتھ ساتھ اس کو فلسطین کی آزادی کے ساتھ جوڑا ہے۔ کیونکہ اگر لیبیا شام وغیرہ کی طرح ایک اور اسرائیلی مخالف ریاست کو تباہ کردیا گیا تو اگلی کئی دہائیوں تک اس بدمعاشی کو روکنا ناممکن ہوگا۔ جو لبرل اور لیفٹ کے لوگ یہ سب ماضی، حال اور مستقبل کا تجزیہ چھوڑ کر بس 1970 کی دہائی میں ایرانی لڑکیوں کی تصوریں دیکھ کر امید کر رہے ہیں کہ نیتن یاہو اور ٹرمپ کی مدد سے رضا پہلوی اقتدار میں آکر وہ دن واپس لائے گا تو ان کی بے شرمی کا اندازہ آپ خود ہی لگا لیں۔

Ammar Ali Jan

Pakistani Political Activist and Historian.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Recent News

Trending News

Editor's Picks

عالمی آرڈر مکمل طور پر ختم ,وینیزویلا پر حملہ

Author Ammar Ali Jan Pakistani Political Activist and Historian. آج عالمی آرڈر مکمل طور پر ختم ہوچکا ہے۔ کئی ماہ سے امریکہ وینیزویلا کی حکومت پر منشیات کی سمگلنگ کا الزام لگا رہا تھا۔ آج بغیر کسی عالمی تحقیقات کے امریکہ نے نہ صرف وینیزویلا پر حملہ کیا، بلکہ یہ بھی دعوہ کیا کہ اس...

“گوشت” ناول مین بکر انعام جیت گیا۔

Author Dr. Furqan Ali Khan Medical doctor, activist ,writer and translator ” گوشت ” ایک غیر روایتی غربت سے دولت مند ہونے تک کی کہانی ہے۔ اس کتاب کا مرکزی کردار،” استوان ” کی کہانی کے ساتھ کھلتی ہے، جو کہ ہنگری کے ایک ہاؤسنگ پروجیکٹ میں رہنے والے ایک شرمیلا اور عجیب و غریب...

کچھ ایرانی ناول” اکائی”(منِ او) کے بارے میں

Author عبدالوحید افسانہ نگار ایرانی ناول “اِکائی ” (فارسی نام منِ او) نوے اور دوہزار کی دہائیوں کا ایران میں سب سے زیادہ پڑھا جانے والا ناول ہے۔ اِس کے لکھاری رضاامیر خانی ہیں جنھیں ایران کے سب سے بڑے ادبی ایوارڈ” جلال آل احمد ایوارڈ “سے نوازا جا چکا ہے، ایران میں خاصے مقبول...

خالد فتح محمد کی دو طویل کہانیاں

Author عبدالوحید افسانہ نگار خالد فتح محمد ہمارے عہد کا جانا پہچانا نام ہے۔ پاکستان میں پچھلے بیس سالوں میں جتنا فکشن کا کام اُن کاسامنے آیا ہے شاید ہی کسی اور کا ہمارے سامنے آیا ہو۔ ابھی حال ہی میں ان کی دو طویل کہانیوں پر مبنی کتاب ” 2 طویل کہانیاں ” کے...

ٓ کتاب استعمار اور محکوم پر ایک اظہاریہ

Author عبدالوحید افسانہ نگار ابھی حال ہی میں البرٹ میمی کی شہرہ آفاق کتاب colonizer and colonized کا اردو ترجمہ جناب وقار فیاض صاحب نے” استعمار اورمحکوم “کے عنوان سے کیا ہے۔ مجھ جیسے لوگ جو انگلش میں پورے پورے ہیں اُن کے لیے یہ ترجمہ شدہ کتاب خاصی اہم ہے کیونکہ یہ کتاب اپنے...

News Elementor

Right Info Desk – A Different Perspective

Popular Categories

Must Read

©2025 – All Right Reserved by Right Info Desk