NE

News Elementor

What's Hot

غزہ میں نسل کشی

Table of Content

Author

غزہ میں اس وقت قیامت برپا ہے۔ اٹھارہ ماہ سے زائد نسل کشی میں اب تک اسرائیل کم از کم 60 ہزار شہریوں کو قتل کرچکا ہے۔ دوسری طرف پچھلے 11 ہفتوں سے مسلسل محاصرے اور امداد پر پابندی کی وجہ سے اس وقت ہزاروں افراد، خصوصی طور پر بچے، بھوک اور بیماریوں کی وجہ سے زندگی موت کی کشمکش سے گزر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس وقت غزہ کی تمام آبادی کو بھوک کی وجہ سے جان کا خطرہ ہے۔

دو دن پہلے اسرائیل اور امریکہ نے 11 ہفتے کا محاصرہ ختم کیا لیکن امداد دینے کا ایسا طریقہ کار بنایا جسے انسانیت کی تذلیل کہا جاسکتا ہے۔ ہر علاقے میں امداد تقسیم کرنے کے بجائے پورے غزہ میں چند پوائنٹ بنائے گئے جہاں پر اسرائیلی فوج کی نگرانی میں امداد بانٹی گئی۔ کہا گیا کہ اس طرح ہم اس امداد کو حماس کے ہاتھ لگنے سے بچائیں گے۔ لیکن ہزاروں لاکھوں بھوکے لوگ جب ان مقامات پر پہنچے تو وہاں پر ہنگامے شروع ہوگئے۔ امداد کی تقسیم کے انچارج Jake Wood نے یہ حالات دیکھ کر استعفی دے دیا اور کہا کہ اسرائیل مجبور انسانوں میں خوراک کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کررہا ہے جو انسانیت کی تذلیل ہے۔

انسانوں کو اس طرح بے بس چھوڑ دینا سامراج کی بنیادی حکمت عملی ہوتی یے۔ یورپی نو آبادیاتی نظام کی بنیاد عسکری ٹیکنالوجی پر برتری، وسائل کی لوٹ مار اور انسانوں کی نفی پر مبنی یے۔ افریقہ لاطینی امریکہ اور ایشیا کے ممالک غریب نہیں تھے لیکن ان کا استحصال اس طرح سے ہوا کہ 18ویں اور 19 ویں صدیوں قحط کی صدیاں بن گئیں۔ اس کے ساتھ ان براعظموں کے باشندوں کو تہذیب کے دائرے کار سے نکالتے ہوئے یہ کہا گیا کہ یہ سیاسی نمائندگی کے قابل نہیں ہیں۔ یعنی ایک طرح سے انسانیت کے بڑے حصے کو تاریخ کے عمل سے بھی باہر کردیا گیا اور ان کے اوپر ہر قسم کے ظلم و جبر کو جائز بھی قرار دے دیا۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد نو آبادیاتی نظام کے خاتمے پر تیسری دنیا کی تحریک کا بنیادی مقصد غریب ممالک کی صدیوں بعد سالمیت قائم کرنا تھا۔ اس میں ایک آزاد معیشیت، سیاسی استحکام اور عسکری قوت کا قیام انقلابی تحریکوں اور حکومتوں کے لئے اہم اہداف تھے۔ دوسری جانب امریکہ کی کوشش تھی کہ کسی طرح ان ممالک کی سالمیت کو ختم کیا جاسکے جس کے لئے وہاں کے حکمران طبقات، بشمول جنرلوں کو استعمال کیا گیا تاکہ آزاد ریاستیں ایک بار پھر استعمار کے تابع ہوجائیں۔ غریب ممالک پر اقتصادی پابندیاں اس حکمت عملی کا اہم ستون ہیں جس کو امریکہ نے درجنوں بار استعمال کیا ہے۔ 1990 کی دہائی میں عراق کے اوپر پابندیوں نے ہزاروں بچوں کی جان لے لی تو امریکہ سیکرٹری خارجہ Madeline Albright نے کہا کہ یہ قیمت انہیں منظور ہے۔ اسی طرح کی خوفناک پابندیاں چین، کیوبا، ونیزویلا، کوریا، انگولا، برکینا فاسو، ایران، روس اور 80 سے زائد ممالک پر لگائی گئی تاکہ ان کو کمزور کیا جاسکے۔ یعنی غزہ میں بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنا ایک پورانی سامراجی روایت ہے۔

ان تمام دہائیوں میں اسرائلی جرائم کے باوجود پابندیاں لگانا تو دور کی بات، اسرائیل کو مسلسل امداد اور ٹیکنالوجی فراہم کی گئی تاکہ وہ عرب دنیا اور مشرقی وسطی میں کسی بھی قسم کی مزاحمتی تحریک کو کچل سکے۔ غزہ اس پالیسی کا تسلسل ہے جس میں ریاست کی سالمیت کو ختم کردیا جاتا ہے، اس کو عسکری ٹیکنالوجی اور معاشی پلاننگ سے دور کردیا جاتا ہے، اور پھر فوجی بربریت اور بھوک کو سیاسی ہتھیار کے طور پر مخالفین کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے پس منظر میں پوری عرب دنیا میں انقلابی تحریکوں اور مظبوط حکومتی کی تباہی ہے جس کی وجہ سے آج یہ سب ممکن ہورہا ہے۔ لیبیا، عراق، شام اور یمن میں بمباری جبکہ مصر اردن میں امریکہ نواز حکومتیں، خلیجی ریاستوں میں کٹھ پتلی حکمران، غزہ پر کئی سالوں سے بدترین پابندیاں۔ یہ وہ بنیاد ہے جس کی بناء پر اسرائیل یہ نسل کشی کررہا یے۔

لیکن امریکہ کے لیے معاملات اتنے آسان نہیں رہے۔ 1950 میں جب امریکہ نے چین ہر گندم کی بر آمد پر پابندی لگائی تھی تو اس وقت چیئرمین ماو نے خود انحصاری کا فیصلہ کیا۔ آج کئی پابندیوں کے باوجود چین اکثر شعبوں میں امریکہ سے آگے نکل رہا یے۔ یہی معاملات روس کے ساتھ ہیں جس کو حال میں لگائی گئی پابندیوں سے کوئی اثر نہیں پڑا۔ ایران نے بھی پابندیوں کے باوجود اپنی معاشی اور عسکری صلاحیت کو مظبوط کرلیا ہے۔ لاطینی امریکہ اور افریقہ میں بھی کئی ممالک، بشمول برکینا فاسو اور برازیل، میں سامراج کے خلاف بغاوتوں کا عمل جاری ہے جو چین اور روس کے ساتھ اتحاد میں تبدیل ہورہا ہے۔

غزہ ایک علاقہ نہیں بلکہ ایک تاریخ کا نام ہے جس میں سامراج کسی بھی خطے میں خلیج پیدا کرکے ان ممالک کی معاشی اور عسکری صلاحیت کمزور کردیتا یے۔ امریکہ اور اسرائیل کے ااتھ اتحاد کے بعد یہی خواہش مودی کی ہمارے خطے میں تھی جس کو پاکستان نے ناکام بنا کر پورے جنوبی ایشیا کے اندر لوگوں کو ہمت بھی دی ہے اور امن کی امید بھی پہدا کی۔ کیونکہ عسکری توازن قائم کئے بغیر امن قائم رکھنے کی جواہش ایک بچگانہ سوچ کے سوا کچھ نہیں۔ اگر آج کوئی بھی عرب ملک اس قابل ہوتا کہ وہ عسکری اعتبار سے اسرائیل کا مقابلہ کرسکتا تو یہ جنگ رک سکتی تھی۔ لندن یا نیو یارک میں لاکھوں لوگوں کے جلسوں سے نہ ویتنام کی جنگ رکی، نہ عراق کی اور نہ غزہ کی نسل کشی۔ چین، ایران شمالی کوریا، ویتنام اور دیگر ممالک نے سکھایا ہے کہ اپنے اہنے خطے کی عسکری صلاحیت ہی سامراجی بدمعاشی کو روک سکتی ہے۔

آج بھی decolonization کے عمل کو دنیا بھر میں تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے تین اہداف ہونے چاہئے۔ پہلا، معاشی ترقی، تاکہ لوگوں کی زندگی بہتر کرنے کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی تک بھی رسائی حاصل کی جاسکے۔ دوسرا، سیاسی نمائندگی اور انصاف تاکہ کسی بھی ملک میں رہنی والی مختلف قوموں اور مذہبی گروہوں کے درمیان یکجہتی قائم ہو اور وہ بیرونی قوتوں کے ہاتھوں استعمال نہ ہوں۔ اور تیسرا عسکری قوت کو سائنس اور ٹیکنالوجی کے مطابق مضبوط کیا جائے اور انہیں دفاعی فرائض تک محدود کیا جائے۔ اس سب کا متبادل ٹوٹ پھوٹ، معدنیات کی جنگیں، اور بیرونی غلبہ ہے جس کے نتائج مشقی وسطی میں ہمارے سامنے ہیں۔ یہ لڑائی بیسویں صدی میں سوشلسٹوں نے لڑی تھی۔ غزہ کے ہولناک مناظر ہمیں باور کروا رہے ہیں کہ آج بھی ہمارا اولین فرض سامراج مخالفت اور تیسری دنیا کے ممالک کی یکجہتی ہے تاکہ نسل کش استعماری غلبے سے مقابلے کی تیاری کی جاسکے۔

Ammar Ali Jan

Pakistani Political Activist and Historian.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Recent News

Trending News

Editor's Picks

عالمی آرڈر مکمل طور پر ختم ,وینیزویلا پر حملہ

Author Ammar Ali Jan Pakistani Political Activist and Historian. آج عالمی آرڈر مکمل طور پر ختم ہوچکا ہے۔ کئی ماہ سے امریکہ وینیزویلا کی حکومت پر منشیات کی سمگلنگ کا الزام لگا رہا تھا۔ آج بغیر کسی عالمی تحقیقات کے امریکہ نے نہ صرف وینیزویلا پر حملہ کیا، بلکہ یہ بھی دعوہ کیا کہ اس...

“گوشت” ناول مین بکر انعام جیت گیا۔

Author Dr. Furqan Ali Khan Medical doctor, activist ,writer and translator ” گوشت ” ایک غیر روایتی غربت سے دولت مند ہونے تک کی کہانی ہے۔ اس کتاب کا مرکزی کردار،” استوان ” کی کہانی کے ساتھ کھلتی ہے، جو کہ ہنگری کے ایک ہاؤسنگ پروجیکٹ میں رہنے والے ایک شرمیلا اور عجیب و غریب...

کچھ ایرانی ناول” اکائی”(منِ او) کے بارے میں

Author عبدالوحید افسانہ نگار ایرانی ناول “اِکائی ” (فارسی نام منِ او) نوے اور دوہزار کی دہائیوں کا ایران میں سب سے زیادہ پڑھا جانے والا ناول ہے۔ اِس کے لکھاری رضاامیر خانی ہیں جنھیں ایران کے سب سے بڑے ادبی ایوارڈ” جلال آل احمد ایوارڈ “سے نوازا جا چکا ہے، ایران میں خاصے مقبول...

خالد فتح محمد کی دو طویل کہانیاں

Author عبدالوحید افسانہ نگار خالد فتح محمد ہمارے عہد کا جانا پہچانا نام ہے۔ پاکستان میں پچھلے بیس سالوں میں جتنا فکشن کا کام اُن کاسامنے آیا ہے شاید ہی کسی اور کا ہمارے سامنے آیا ہو۔ ابھی حال ہی میں ان کی دو طویل کہانیوں پر مبنی کتاب ” 2 طویل کہانیاں ” کے...

ٓ کتاب استعمار اور محکوم پر ایک اظہاریہ

Author عبدالوحید افسانہ نگار ابھی حال ہی میں البرٹ میمی کی شہرہ آفاق کتاب colonizer and colonized کا اردو ترجمہ جناب وقار فیاض صاحب نے” استعمار اورمحکوم “کے عنوان سے کیا ہے۔ مجھ جیسے لوگ جو انگلش میں پورے پورے ہیں اُن کے لیے یہ ترجمہ شدہ کتاب خاصی اہم ہے کیونکہ یہ کتاب اپنے...

News Elementor

Right Info Desk – A Different Perspective

Popular Categories

Must Read

©2025 – All Right Reserved by Right Info Desk