Author
-
Pakistani Political Activist and Historian.
5 جولائی 1977 ہماری تاریخ کے سیاہ ترین بابوں میں سے ایک ہے جب جنرل ضیاء الحق نے ایک سویلین حکومت کا تختہ الٹا کر اقتدار پر قبضہ کرلیا تھا۔ ان کی حکومت (1977-1988) نے ہمارے ملک کے سماجی، اقتصادی اور سیاسی ڈھانچے کو تباہ کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ ہم آج تک اس رجعتی دور کی پالیسیوں کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر جنرل ضیاء الحق امریکی سامراج کا وفادار ساتھی تھا۔ 1970 میں اس نے اردن میں فلسطینیوں کی بغاوت کو کچلنے میں مدد کی. یہ واقعہ “Black September.” کے نام سے مشہور ہوا اور آج تک عرب دنیا میں اس کی مثال دی جاتی ہے۔ 1979 کے بعد اس نے جہاد کے نام پر پاکستان کو افغانستان میں ایک نہ ختم ہونے والی جنگ میں دھکیل دیا۔ اس سارے عرصے میں اس نے ہمارے ملک کو سرد جنگ میں امریکی مفادات کے لیے محض ایک پراکسی بنادیا جس کی وجہ سے خطے میں ترقی پسند سیاست تباہ ہوگئی جبکہ امریکی سامراج کو دنیا پر اپنا تسلط قائم کرنے کے لئے کھلی چھوٹ مل گئی۔ پشتون سرزمین میں موجودہ تشدد بھی اسی شرمناک دور کی براہ راست میراث ہے۔
ملکی سطح پر ضیاء نے ٹریڈ یونینوں، طلباء یونینوں، خواتین اور اقلیتوں کے خلاف ایک خوفناک رد انقلاب کی قیادت کی۔ اس نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے اسلام کو استعمال کیا اور مخالفین پر تہمتیں لگائیں جبکہ قدامت پسند عناصر کی حمائت کی۔ لیکن ستم ظریفی یہ یے کہ اس کی حکومت مذہبی تعصب کی بدترین شکلوں کے ساتھ ساتھ ہیروئن کلچر، کلاشینکوف کلچر اور دیگر آفات کی ذمہ دار تھی جس سے اس دور کی منافقت عیاں ہوجاتی ہے۔ اس نے سیاسی جماعتوں اور نظریاتی سیاست کو تباہ کرنے کا عمل بھی شروع کیا اور اس کی جگہ الیکٹیبلز کو سرپرستی دے کر عوامی سیاست کو دفن کرنے کی کوشش کی۔ نظریاتی سیاست کو کمزور کرنا، مزدور یونینوں، طلبہ یونینوں، کسان کمیٹیوں کی تباہی اور اختلافی آوازوں کے خلاف بدترین تشدد ضیا کی میراث ہیں۔
ایک وقت تھا جب کئی پاکستانی جنرل ضیاء کا ساتھ دیتے تھے۔ لیکن آج ملک بھر میں وہ ایک نفرت انگیز شخصیت ہے جس کی تعریف وہ لوگ بھی نہیں کرتے جنہوں نے اس سے فائدہ اٹھایا۔ تاہم، وہ اب بھی ہمارے معاشرے کے لاشعور پر قبضہ جما کر بیٹھا ہے۔ اس نے معاشرے کو بے پناہ نفرت، منافقت اور خوف سے بھر دیا ہے حتی کہ ہمارے لیے یہ تصور کرنا ناممکن ہو گیا ہے کہ ایک آزاد معاشرہ کیسا ہو گا۔ ضیا کے دور نے معاشرے میں پھیلی اس ناامیدی کو پختہ کیا جو ہمیں حالات کے آگے بے بس ہونے ہر مجبور کردیتی یے۔
جس دن ہم اپنے اندر پھیلی ہوئی ناامیدی سے لڑنا شروع کر دیں گے، ہم ضیاء کی میراث کو شکست دینا شروع کر دیں گے۔ عوام نے ضیا اور امریکی سامراجی کی بنائی ہوئی دنیا کو کبھی دل سے قبول نہیں کیا۔ آج وقت آگیا ہے کہ اس انقلابی سوچ کو پھر سے زندہ کیا جائے جس کو قتل کرنے کے لئے امریکہ نے اس جلاد کو ہمارے اوپر مسلط
