NE

News Elementor

What's Hot

Latest Posts

“پشتون مذاق بمقابلہ پنجابی مذاق اور پی ٹی آٸی” پشتون طریقہ اظہار

اَسی کی دہاٸی کے اواخر کے سالوں کا واقعہ ہے کہ ہمارے محلے میں ایک پٹھان جوسر مشینیں، استریاں اور کراکری کے سیٹ فروخت کرنے آیا یہ اُسی قبیل کا پٹھان تھا جو دس ہزار کا قالین کہہ کر پانچ سو میں بیچ جایا کرتے ہیں۔ خالہ گیٹ والی، جن سے ہم محلے کے بچے...
Read more

“اظہر حسین کے افسانوں کا مجموعہ” دنیا رنگ بازی پر قاٸم ہے

اظہر حسین کے افسانوں کا مجموعہ” دنیا رنگ بازی پر قاٸم ہے“ کے بارے اگر یہ کہا جاۓ کہ اس کے ہر ہر صفحے سے لاہور چھلکتا ہے تو بے جا نہ ہو گا، بلکہ یوں کہا جاۓ کہ ہر ہر لاٸن شمالی لاہور کے کلچر، زبان، سوچ، عادات واطوار اور رویوں کی عکاسی کرتی...
Read more

“نور جہاں اور نیلو کا بوسہ فلم” نیند

1959 میں بنی فلم ”نیند“ میں نورجہاں اور نیلو کا بوسہ دیکھ کر یقین ہو گیا کہ ہمارے بڑے کھلے ڈلے مزاج اور فنون لطیفہ کی باریکیوں کو سمجھنے والے ہم سے بہت ہی بہتر اور سیکولر مزاج کے لوگ تھے۔ ایسا بوسہ اگر آج کی کسی فلم میں فلمایا گیا ہوتا تو فلم نے...
Read more

میاں رضا ربانی کی آنکھ سے اوجھل ”اوجھل لوگ“

”سفید جھاگ اس کے ہونٹوں کو ڈھانپ لیتا ہے ایسے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے اپنے خالق سے مکالمہ شروع کر دیا ہے جبکہ وہ رک رک کر بڑبڑاتا ہے کیامیں اس ریاست کا شہری ہوں کیا آٸین کے یہ حقوق، ہر شخص سے اس کی صلاحیت کے مطابق، ہر شخص کو اس کے...
Read more

طاہر سندھو جزو سے کل کا مسافر

فکشن پڑھتے ہوۓ اب میرے لیے یہ جاننا بھی بہت ضروری ہوتا ہے کہ لکھاری اپنی تحریر میں کتنا خودمختار ہے۔ کیا لکھاری کسی موضوعاتی حصار میں تو ہاتھ پاٶں نہیں مار رہا؟ اس کی موضوعاتی کاٸنات کتنی وسعت کی حامل ہے۔ کہیں لکھاری سیلف سینسر شپ کا شکار تو نہیں اور یہ ضروری بھی...
Read more

ڈاکٹر غافر شہزاد کے ناول” پالنہار” پر ایک اظہاریہ

بسا اوقات ہم فکشن لکھنے والے کسی موضوع کے کچھ اِس طرح اسیر ہوتے ہیں کہ بات کہنا بہت ضروری ہونے کے ساتھ ساتھ مشکل بھی ہو جاتی ہے اور جو بات کہنی ہوتی ہے اُس کے اتنے پہلو سامنے آجاتے ہیں کہ ایک جینوئین لکھاری کے لیے کسی ایک پہلو کو نظرانداز کرنا بھی...
Read more

شاہد اشرف ادبی میلانات کا نباض

پانچ چھ سال پہلے لاہورشاہد اشرف کی صورت میں ایک نئے مجلسی نقاد سے متعارف ہوا ہے جو لاہور میں تو نووارد ہیں لیکن فیصل آباد کی ادبی مجلسی زندگی میں بھرپور طریقے سے اپنا کردار ادا کر چکے ہیں۔ شاہد اشرف کی مجلسی تنقید کی پختگی بتاتی تھی کہ اُن کے پاس کہنے کو...
Read more

ناول ”اساس“ پچھڑے ہوے لوگوں کی داستانِ استقامت

ابھی حال ہی میں ایلکس ہیلی کے ناول ”Roots“ کا ترجمہ ”اساس“ کے عنوان سے پڑھا جس کے مترجم عمران الحق چوہان ہیں۔ ناول پڑھتے ہوۓ جہاں ناول نگار کی محنت، تحقیق، علم اور کرافٹنگ نے بہت متاثر کیا وہیں ناول پڑھتے ہوۓ دلی طور پر عمران الحق چوہان صاحب کا بھی شکرگزار رہا جنھوں...
Read more

” Prophet Song” ناول اجتماعی ضمیر پر دستک

کوشش کرتا ہوں ان خیالات کو ترتیب دینے اور بیان کرنے کی،جو پال لِنچ کے ناول Prophet Song کو پڑھنے کے بعد میرے ذہن میں اُبھرے، پھر بے ترتیب ہوئے اور اب غم میں ڈوبتے محسوس ہو رہے ہیں۔ اس ناول کا ترجمہ جناب عمران الحق چوہان صاحب نے ”باقی ہے شبِ فتنہ“ کے عنوان...
Read more

ناول” جنگل “عام امریکی شہری کی تلخ تاریخ

اپٹون سنکلیئر کا ناول” جنگل” 1906میں لکھا گیا.انگلش سے اردو میں ترجمہ عمران الحق چوہان صاحب نے کیا ہے۔ عمران الحق چوہان صاحب کا یہ اختصاص رہا ہے کہ ہمیشہ اُس ناول کا ترجمہ کرتے ہیں جس کا کینوس وسیع ہو، جو ایک خاص وقت میں رہنے والے لوگوں کی زندگیوں کی معاشی،سماجی اور نفسیاتی...
Read more

Trending News

Editor's Picks

عالمی آرڈر مکمل طور پر ختم ,وینیزویلا پر حملہ

آج عالمی آرڈر مکمل طور پر ختم ہوچکا ہے۔ کئی ماہ سے امریکہ وینیزویلا کی حکومت پر منشیات کی سمگلنگ کا الزام لگا رہا تھا۔ آج بغیر کسی عالمی تحقیقات کے امریکہ نے نہ صرف وینیزویلا پر حملہ کیا، بلکہ یہ بھی دعوہ کیا کہ اس نے صدر مڈورو اور ان کی اہلیہ کو اغوا...

“گوشت” ناول مین بکر انعام جیت گیا۔

” گوشت ” ایک غیر روایتی غربت سے دولت مند ہونے تک کی کہانی ہے۔ اس کتاب کا مرکزی کردار،” استوان ” کی کہانی کے ساتھ کھلتی ہے، جو کہ ہنگری کے ایک ہاؤسنگ پروجیکٹ میں رہنے والے ایک شرمیلا اور عجیب و غریب نوجوان کے طور پر ناول میں ہے۔ اس کی کہانی غربت...

کچھ ایرانی ناول” اکائی”(منِ او) کے بارے میں

ایرانی ناول “اِکائی ” (فارسی نام منِ او) نوے اور دوہزار کی دہائیوں کا ایران میں سب سے زیادہ پڑھا جانے والا ناول ہے۔ اِس کے لکھاری رضاامیر خانی ہیں جنھیں ایران کے سب سے بڑے ادبی ایوارڈ” جلال آل احمد ایوارڈ “سے نوازا جا چکا ہے، ایران میں خاصے مقبول ہیں۔ اِس ناول کا...

خالد فتح محمد کی دو طویل کہانیاں

خالد فتح محمد ہمارے عہد کا جانا پہچانا نام ہے۔ پاکستان میں پچھلے بیس سالوں میں جتنا فکشن کا کام اُن کاسامنے آیا ہے شاید ہی کسی اور کا ہمارے سامنے آیا ہو۔ ابھی حال ہی میں ان کی دو طویل کہانیوں پر مبنی کتاب ” 2 طویل کہانیاں ” کے عنوان سے منظر عام...

ٓ کتاب استعمار اور محکوم پر ایک اظہاریہ

ابھی حال ہی میں البرٹ میمی کی شہرہ آفاق کتاب colonizer and colonized کا اردو ترجمہ جناب وقار فیاض صاحب نے” استعمار اورمحکوم “کے عنوان سے کیا ہے۔ مجھ جیسے لوگ جو انگلش میں پورے پورے ہیں اُن کے لیے یہ ترجمہ شدہ کتاب خاصی اہم ہے کیونکہ یہ کتاب اپنے پڑھنے والے کو گہرائی...

News Elementor

Right Info Desk – A Different Perspective

Popular Categories

Must Read

©2025 – All Right Reserved by Right Info Desk