NE

News Elementor

What's Hot

کچھ ایرانی ناول” اکائی”(منِ او) کے بارے میں

Table of Content

Author

ایرانی ناول “اِکائی ” (فارسی نام منِ او) نوے اور دوہزار کی دہائیوں کا ایران میں سب سے زیادہ پڑھا جانے والا ناول ہے۔
اِس کے لکھاری رضاامیر خانی ہیں جنھیں ایران کے سب سے بڑے ادبی ایوارڈ” جلال آل احمد ایوارڈ “سے نوازا جا چکا ہے، ایران میں خاصے مقبول ہیں۔ اِس ناول کا اردو میں ترجمہ احمد شہریار صاحب نے کیا ہے۔ پہلے تو بات کرتے ہیں ترجمے کی جسے پڑھتے ہوئے نثر کی روانی کہیں مجروح ہوتی محسوس نہیں ہوتی، ترجمہ اپنے پورے ابلاغ کے ساتھ قاری پر وارد ہوتا ہے۔ اردو روزمرہ اور محاورے کا پورے ناول میں اچھا اہتمام کیا گیا ہے البتہ متعدد ابواب میں ایسا ہوا کہ کرداروں کی جانب سے بولی جانے والی عربی کو ترجمہ کیے بغیر لکھ دیا گیا جس سے قاری کو تھوڑا سا جھٹکا لگتا ہے۔ اِس ناول کو پڑھتے ہوئے میں اِس ٹوہ میں بھی رہا کہ ایران میں کس نوعیت کے ادب کو حکومت کی طرف سے پزیرائی ملتی ہے۔ کیونکہ ایران کا نظریاتی جمود اور وہاں کے سماج کی محدودات بھی ہمارے سامنے ہے۔ اِس تحریر میں آگے چل کر لکھاری کو انعام ملنے کی وجوہات پر بھی کچھ معروضات پیش کروں گا۔ ناول کی لوکیل ایران کے شہر تہران کا علاقہ خانی آباد ہے۔ ناول میں فتاح خاندان جو کہ اچھا خاصا متمول خاندان ہے، کے حالات و واقعات بیان کیے گئے ہیں۔ یہ خاندان دادا فتاح، بہو جسے ناول میں امی کہا گیا ہے، ایک پوتے علی اور پوتی مریم پر مشتمل ہے، جو ایک پرآسائش زندگی گزار رہے ہیں۔ بظاہر ناول کا بنیادی وظیفہ مرکزی کردار علی اور اُن کے گھر کام کرنے والے جوڑے کی بیٹی مہتاب کی محبت کو بیان کرنا لگتا ہے۔لیکن اِس کے ساتھ ساتھ ایرانی سماج میں اُس وقت پائے جانے والے سماجی، معاشی،تہذیبی اور تاریخی دباؤ بھی اِس ناول کے موضوعات ہیں۔ ناول زمانی اعتبار سے 1920سے اَسی کی دہائی کے ابتدائی سالوں تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ تقریبا وہ زمانہ بنتا ہے جس دوران قاچار خاندان اقتدار سے رخصت ہونے کے بعد ا یران کے اقتدار پر پہلوی خاندان حکمران بنا اور کچھ زمانہ انقلاب کے بعد کا بھی اِس ناول میں زیر بحث آیا ہے۔ ناول ابتدا میں طبقاتی تفریق کو اجاگر کرتا نظر آتا ہے جہاں ایک طرف خانی آباد کے شرفا ء پرتعیش زندگی گزار رہے ہیں جبکہ دوسری طرف اُسی علاقے میں ایک اور آبادی کا تذکرہ ہے جسے گڑھے میں بسنے والے لوگ کہا جاتا ہے یہ زیادہ تر وہ لوگ ہیں جو خانی آباد کی اشرافیہ کے گھروں میں کام کرتے ہیں۔ ناول کا مرکزی کردار علی فتاح نامی بارہ تیرہ سال کا لڑکا اُسی گڑھے میں رہنے والی ایک لڑکی پر فریفتہ ہے جو اُن کے گھر کام کرنے والے سکندر کی بیٹی ہے۔ اُسی سکندر کا بیٹا کریم بھی علی کا قریبی دوست ہے جس کے ساتھ مِل کر علی سارا دن شرارتوں میں مشغول رہتا ہے۔ بعد میں یہی گڑھے میں رہنے والا خاندان علی فتاح کے باپ کے قتل کے بعد گھر کے پچھلے حصے میں آ کر آباد ہو جا تاہے۔ علی کی محبوبہ مہتاب کا کردارناول میں کہیں بھی کھل کر بیان نہیں کیا گیا لیکن ناول میں اُس کی بار بار جھلک قارئین کو دکھائی جاتی رہی ہے کہ قاری یہ مت بھولیں کہ یہ ناول محبت کی کہانی بیان کررہا ہے۔آغاز میں جہاں علی،مہتاب کریم اور مریم کے بچپن کے دن دکھائے گئے ہیں وہیں علی فتاح اپنے باپ کی آمد کا منتظر بھی ہے جو دور دراز کے علاقوں سے تجارت کا سامان لینے گیا ہوا ہے۔ علی کے باپ کے واپس آنے کی بجائے اُس کے قتل ہونے کی خبر آتی ہے جس کے بعد ناول میں سوگ کی سی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔ ناول نگار علی فتاح کے باپ کے قتل کے بعد جس طرح سے درد و اَلم کے ماحول کو اپنی گرفت میں لیتا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ خاص طور پر علی فتاح کا دادا فتاح جس طرح سے اپنے غم کو دبانے کے لیے اپنا سارا غصہ اور غم گھوڑے کی ایک طویل سواری کرنے کے دوران اُتارتا ہے وہ منظر پڑھتے ہوئے قاری گھوڑے کی ایک ایک ٹاپ کے نیچے اپنے دل کو مسلتا ہوا محسوس کرتا ہے۔طویل گُھڑ سواری کے بعد دادا فتاح تو بے ہوش ہو جاتاہے جبکہ گھوڑا ہانپتاہوا دم طور جاتا ہے۔ علی فتاح کے باپ کا قتل پورے ناول میں ایک نیم راز کی حیثیت سے بیان کیا گیا ہے ہر ایک کا اپنا قیاس تھا کوئی کہتا کہ ریاستی جبر کا اُس قتل میں عمل دخل تھا، تو کوئی کہتا کہ ڈاکووں کے ہتھے چڑھنے سے مارا گیا کہ اُس کے پاس تجارت کے لیے بہت سا سامان تھا۔ناول آغاز میں ہی اشارے دینے لگتا ہے کہ عوام ریاستی جبر سے پریشان ہیں۔ لیکن صورتحال کی سنگینی اُس وقت بڑھتی ہے جب رضاشاہ پہلوی کی طرف سے پردہ کرنے اور سر پر چادر لینے کی ممانعت کا آرڈر کیا جاتاہے۔ پردے کی ممانعت کے بعد سکولوں میں بچیوں اور اُستاینوں کو پردہ کرنے اور چادر لینے سے منع کیا جاتاہے۔ حکومت کی طرف سے جشن فرخندہ منعقد کیے جاتے ہیں جن میں اشرافیہ کے نمائندہ افراد کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اپنے ساتھ اپنی بیویوں کو بغیر حجاب کے لے کر آئیں۔ اگر کوئی مدعو فرد اپنی گھر والی کو بغیر پردے کے نہیں لائے گا تو اُسے سرکار کی طرف سے سزا ملے گی۔ تجارتی اشرافیہ کے نمائندہ افراد جشن فرخندہ میں شرکت تو کرتے ہیں لیکن اپنے اپنے طریقے سے احتجاج بھی کرتے ہیں اور متعدد امرا ء اپنے ساتھ غیر ملکی بے پردہ عورتوں کو ساتھ لے آتے ہیں جن کا ایران میں کوئی والی واث نہیں ہے ۔ناول کا ایک دلچسپ کردار عزتی نامی پولیس کا سنتری بھی ہے جوراہ چلتی عورتوں کی چادروں کو کھینچ کر سروں سے اتارتاہے۔ یہی عزتی جب فتاح کی پوتی یعنی مرکزی کردار علی فتاح کی بہن کے سر سے چادر کھینچتا ہے تو پورے علاقے میں غم و غصے کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ علی اور اُس کے چند ساتھی بدلہ لینے کے لیے گھات لگاتے ہیں لیکن سنتری اُن سے تو بچ جاتاہے لیکن اُسی رات کسی اور کے ہاتھوں قتل ہو جاتاہے۔ علی کی بہن چادر سر سے کھینچے جانے کے بعد شدید صدمے سے دوچار ہو جاتی ہے اور احتجاجاً سکول جانا چھوڑ دیتی ہے اور گھر میں ہی پینٹنگ میں مصروف رہتی ہے۔ اُس کا دادا فتاح اُسے اِس کیفیت سے نکالنے کے لیے اپنے ایک اور دوست کی پوتی کے اتھ فرانس پڑھنے کے لئے بھیج دیتا ہے۔ مریم کو فرانس بھیجنا اور وہ بھی اِس سبب سے کے ایرانی سرکار پردہ نہیں کرنے دیتی ایک انتہائی کمزور دلیل ہے جس سے ناول نگار کی لاجیکل اپروچ پر شُبہ گزرتا ہے کہ فرانس کی جدید اور آزاد خیال زندگی میں پندرہ سولہ سال کی بچی کو محض پردہ دار زندگی گزارنے کے لیے بھیجا جا رہا ہے۔ مریم فرانس جا کر ماڈرن سٹائل میں زندگی گزارتی ہے جہاں وہ مختلف ریسٹورانٹس کے باہر سڑک پر لگی کرسیوں پر بیٹھی کھانے وغیرہ کھا رہی ہے اور تعلیمی اداروں میں پینٹنگ بنانا سیکھتی ہے۔ ناول میں فرانس جانے کی دلیل کمزور بنیادوں پر کھڑی ہے کہ دادا فتاح اپنے دوست سے کہتا ہے کہ فرانس میں تو بہت بے پردگی ہے ہماری بچیاں وہاں کیسے رہیں گی تو اُس کے دوست فخر التجار کا استدلال ہوتا ہے کہ وہاں جا کر لڑکیاں جو بھی کریں گی اپنی مرضی سے کریں گی اُن پر کوئی زور زبردستی سے پردہ کروانے والا و نہیں ہوگا۔ فتاح کی پوتی اور اُس کے دوست کی پوتی دونوں لڑکیاں فرانس جا کر وہاں کے سماج میں گھل مِل بھی جاتیں ہیں بلکہ فتاح کی پوتی مریم تو اپنی پسند سے ایک الجزائر سے پیرس آئے فریڈم فائٹر کے ساتھ شادی کرکے عملی طور پر الجزائر کی آزادی کے لیے اپنے بھائی علی فتاح کے ساتھ مل کر احتجاج بھی کرتی ہے اور الجزائر کی آزادی کی تحریک کے کاموں میں بھرپور طریقے سے شرکت بھی کرتی ہے۔ تو بات یہ سمجھ آتی ہے کہ رضا شاہ پہلوی سر سے چادر اُتارے تو نامنظور ہے جبکہ فرانسیسی مخلوط کلچر میں رہنا منظور ہے جہاں جنسی زندگی پر بھی کسی طرح کی قدغن نہیں ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ رضا شاہ پہلوی کا امتناہے نظر بھی ایران میں یورپ جیسی آزاد خیالی لانا ہی تھا۔ مریم کا الجزائری فریڈم فائٹر شوہر شادی کے کچھ ہی عرصے بعد فرانس میں قتل کر دیا جاتا ہے۔ اس دوران علی کی محبوبہ مہتاب کو بھی فتاح فرانس بھیج دیتا ہے جس کے لیے ناول میں کسی طرح کی مضبوط دلیل موجود نہیں ہے بس اتناہی بتایا گیا ہے کہ مہتاب بھی فرانس پہنچ چکی ہے۔ مہتاب کے فرانس آنے کے بعد علی کا بھی فرانس آنا جانا لگا رہتا ہے جہاں دونوں کے درمیان ہلکی پھلکی”پاک محبت” والا سین جاری و ساری رہتاہے۔ ایک بار مہتاب فرانس میں علی کو قربت کی دعوت دیتی ہے لیکن علی نظرانداز کر دیتا ہے کہ اُس کے پیچھے بھی علی کے لڑکپن کا ایک واقعہ ہوتا ہے۔ واقعہ کچھ یوں تھا کہ خانی آباد کے علاقے میں ایک قصائی رہتا ہے جو کہ علی کے مرحوم باپ کا اچھا دوست رہا ہوتاہے۔ علی کی مہتاب کے حوالے سے خراب ہوتی شہرت کے سبب وہ علی کے سر سے محبت کا بھوت اُتارنے کے لیے اُس کسی عورت کے جسم سے روشناس کروانا چاہتا ہے تاکہ علی یہ جان جائے کہ عورتیں ایک جیسی ہی ہوتی ہیں تو کیا مہتاب اور کیا کوئی دوسری اور عورت۔ قصائی ایک دلال سے عورت کا انتظام کرنے کو کہتا ہے۔ جب علی دلال کے کہنے پر ایک خاص مقام پر عورت سے جسمانی تعلق کے لیے پہنچتا ہے تو وہاں ایک دم مہتاب آکر سب کچھ تہ وبالا کر دیتی ہے۔ یہاں یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ مہتاب یہ سب اٹھا پٹخ تب کرتی جب اُس کی عمر محض بارہ یا تیرہ سال کی ہوگی۔ ناول کے درمیان میں کچھ باتیں اپنے سیاق سباق ماوار پیش کی گئی ہیں۔ ناول پڑھتے ہوئے ہمیں آغاز میں ہی علم ہو جاتا ہے کہ علی بہن مریم اور محبوبہ مہتاب ایک دھماے میں سن 1966میں مارے جاتے ہے لیکن یہ دھماکہ کہاں ہوتاہے، کون کرواتا ہے اور اُس دھماکے کا حقیقی نشانہ کون ہوتا ہے، ناول اِس بارے خاموش ہے۔ ایسے ہی ناول میں ایک مجتبی نامی کردار دکھایا گیا ہے جو شاہ کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے مارا جاتا ہے اُس کا کردار بھی ناول میں تشنہ رہ جاتا ہے کب اور کیسے مارا گیا اُس کی مزاحمت کے اغراض و مقاصد کیا تھے۔ یوں گمان ہوتا ہے جیسے ناول نگار سماجی، سیاسی اور مذہبی معاملات پر اپنا نقطہ نظر بیان کرنا تو چاہتاہے لیکن خود کو پروپیگنڈا کی چھاپ سے بچانا بھی چاہتا ہے۔ ایسے ہی ایک کردار مصطفی درویش کا بھی ہے جو اسلامی جادؤئی حقیقت نگاری کا امین نظر آتا ہے۔ ہزاروں میل دور سے وہ پیرس میں مریم اور الجزائری فریڈم فائٹر کا نکاح بھی پڑھوا دیتا ہے پھر ایسے ہی وہ مرنے کے بعد بھی مریم کی بیٹی کا نکاح بھی یوں پڑھوا دیتاہے کہ گھر کا ایک ملازم اُس کے کفن پر سے قبر کی گرد جھاڑ رہا ہوتاہے۔ ناول کے اختتام میں مرکزی کردار علی ایرانی انقلاب کے شہیدوں کے قبرستان میں خود ہی اپنی قبر میں جا کر لیٹ جاتا ہے اور یوں اُس کی زندگی کا بھی خاتمہ ہو جاتاہے۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو لکھاری ایرانی ریاستی نظریے کو راضی کرنا چاہتاہے جس سے وہ ریاستی قبولیت سے لطف اندوز ہوتا رہے۔ کیونکہ ناول کے اندر شاہ کی حکومت کے خلاف مزاحمت، پردہ ختم کرنے کی شاہ کی پالیسی کے خلاف مزاحمت، مذہب کی ترویج، شیعت کی ترویج،” پاک” محبت کاتصور، اسلامی جادوئی حقیقت نگاری کی ترویج اور بین الاقوامی آزادی کی تحریکوں میں ایرانی کردار غرضیکہ اِس ایک ناول میں وہ سب کچھ موجود ہے جس کی ایرانی ریاست خواہاں ہو سکتی ہے۔ ناول صریر پبلیکیشنز راولپنڈی نے چھاپا ہے۔ ناول کی قیمت آٹھ سو نوے روپے ہے۔

عبدالوحید

editor@rightinfodesk.com

افسانہ نگار

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Recent News

Trending News

Editor's Picks

عالمی آرڈر مکمل طور پر ختم ,وینیزویلا پر حملہ

Author Ammar Ali Jan Pakistani Political Activist and Historian. آج عالمی آرڈر مکمل طور پر ختم ہوچکا ہے۔ کئی ماہ سے امریکہ وینیزویلا کی حکومت پر منشیات کی سمگلنگ کا الزام لگا رہا تھا۔ آج بغیر کسی عالمی تحقیقات کے امریکہ نے نہ صرف وینیزویلا پر حملہ کیا، بلکہ یہ بھی دعوہ کیا کہ اس...

“گوشت” ناول مین بکر انعام جیت گیا۔

Author Dr. Furqan Ali Khan Medical doctor, activist ,writer and translator ” گوشت ” ایک غیر روایتی غربت سے دولت مند ہونے تک کی کہانی ہے۔ اس کتاب کا مرکزی کردار،” استوان ” کی کہانی کے ساتھ کھلتی ہے، جو کہ ہنگری کے ایک ہاؤسنگ پروجیکٹ میں رہنے والے ایک شرمیلا اور عجیب و غریب...

کچھ ایرانی ناول” اکائی”(منِ او) کے بارے میں

Author عبدالوحید افسانہ نگار ایرانی ناول “اِکائی ” (فارسی نام منِ او) نوے اور دوہزار کی دہائیوں کا ایران میں سب سے زیادہ پڑھا جانے والا ناول ہے۔ اِس کے لکھاری رضاامیر خانی ہیں جنھیں ایران کے سب سے بڑے ادبی ایوارڈ” جلال آل احمد ایوارڈ “سے نوازا جا چکا ہے، ایران میں خاصے مقبول...

خالد فتح محمد کی دو طویل کہانیاں

Author عبدالوحید افسانہ نگار خالد فتح محمد ہمارے عہد کا جانا پہچانا نام ہے۔ پاکستان میں پچھلے بیس سالوں میں جتنا فکشن کا کام اُن کاسامنے آیا ہے شاید ہی کسی اور کا ہمارے سامنے آیا ہو۔ ابھی حال ہی میں ان کی دو طویل کہانیوں پر مبنی کتاب ” 2 طویل کہانیاں ” کے...

ٓ کتاب استعمار اور محکوم پر ایک اظہاریہ

Author عبدالوحید افسانہ نگار ابھی حال ہی میں البرٹ میمی کی شہرہ آفاق کتاب colonizer and colonized کا اردو ترجمہ جناب وقار فیاض صاحب نے” استعمار اورمحکوم “کے عنوان سے کیا ہے۔ مجھ جیسے لوگ جو انگلش میں پورے پورے ہیں اُن کے لیے یہ ترجمہ شدہ کتاب خاصی اہم ہے کیونکہ یہ کتاب اپنے...

News Elementor

Right Info Desk – A Different Perspective

Popular Categories

Must Read

©2025 – All Right Reserved by Right Info Desk