Author

ابھی حال ہی میں البرٹ میمی کی شہرہ آفاق کتاب colonizer and colonized کا اردو ترجمہ جناب وقار فیاض صاحب نے” استعمار اورمحکوم “کے عنوان سے کیا ہے۔ مجھ جیسے لوگ جو انگلش میں پورے پورے ہیں اُن کے لیے یہ ترجمہ شدہ کتاب خاصی اہم ہے کیونکہ یہ کتاب اپنے پڑھنے والے کو گہرائی میں جا کر مختلف سماجی عوامل کو جانچنے کی بصیرت عطا کرتی ہے جس کا سامنا حاکم اور محکوم دونوں اقوام کو کرنا پڑتاہے۔
غالباًوقار فیاض صاحب کا ترجمے کے حوالے سے یہ پہلا کام ہے جس میں مزید بہتری کی گنجائش کتاب پڑھتے ہوئے چند مقامات پر محسوس ہوئی لیکن ابلاغ بہرحال ہوگیا۔ یہ کتاب پچاس کی دہائی کی ایک مقبول کتاب رہی ہے اور آج بھی ایک اہم کتاب ہے کیونکہ اِس کو پڑھے بغیر ہم پوسٹ کالونیل عہد کی حقیقتوں کو نہیں پہچان سکتے۔
خاص طور پر ایسے وقت میں یہ کتاب اور بھی معنی خیز حیثیت اختیار کر جاتی ہے جب موجودہ عہد میں یورپی ممالک کے اندر سے یہ صدائیں بلند ہو رہی ہیں کہ ہماری سابقہ کالونیوں سے آئے ہوئے ہمارے ہی محکوموں نے ہمیں ہمارے ہی وطن میں اپنی کالونی بنا لیا ہے۔ آج کے یہ نام نہاد” محکوم” یورپی اپنے ملکوں میں معاشی حقوق پر لگنے والی چھوٹی سی قدغن)جو کہ اُن کی منشا کے تحت ہی لگی ہے(پر بلبلا اُٹھے ہیں۔ حالانکہ یہ یورپی اور امریکی ہی چھوٹی نوکریاں کرنے کے لیے راضی نہیں ہیں۔ یہ نام نہاد یورپی” محکوم” لوگ سولہویں سے لے کر بیسویں صدی کے وسط تک ہونے والی انسانی اقدار کی پامالی کے ابھی 1%کو بھی نہیں پہنچے کہ یورپ میں نسلی بنیادوں پر تحریکوں کا آغاز کرتے ہوئے اپنے اپنے ممالک میں سابقہ کالونیوں سے آئے ہوئے لوگوں کو دیس نکالا دینے کے لئے سرگرم عمل ہیں۔ اِس کتاب میں معاشی اعداد و شمار دینے یا سیاسی اور معاشی غلبے کے بارے بتانے کی بجائے نو آباد کار اور نوآباد شدہ کے نفسیاتی اور اخلاقی بگاڑ پر زیادہ توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ کتاب کا بنیادی مقصد نوآبادکار اور نوآبادشدہ اور کی ذہنی ساخت کو سمجھنے پر مرکوز کیا گیا ہے۔ کتاب میں جہاں ایک طرف نوآباد کاروں کی اقسام پر بات کی گئی اور کالونیوں کی عوام کو دیکھنے کے اُن کے زاویہ نظر کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے، وہیں نوآبادشدہ کی اُن کمزوریوں کو بھی زیر بحث لایا گیا ہے جن کے سبب ایک نوآباد شدہ اُس جال میں پھنس جاتا ہے جو نوآبادکار اُس کے لیے بچھاتا ہے۔ یہ کتاب بائیں بازو سے وابسطہ دانشوروں کی ٹامک ٹوئیوں کو بھی زیر بحث لاتی ہے جس کے سبب بایاں بازو آزادی کی تحریکوں میں محکوم قوم کی ترجمانی کرنے یا کسی بھی طرح کی رہنمائی کرنے سے محروم رہ جاتاہے۔ کتاب میں نوآباد کا ر کی نفسیات کو سمجھنے کے لئے سب سے پہلے تو نوآبادکاروں کی کالونی میں آنے کی وجہ پر بحث کی گئی ہے کہ وہ کالونی میں کیوں آتے ہیں۔ ظاہری سبب تو یہی ہوتاہے کہ معاشی فوائد حاصل کیے جاسکیں کیونکہ کالونی میں آنے والے نوآباد کار کو مقامی لوگوں پر ہر طرح سے ترجیح دی جاتی ہے اور دھیرے دھیرے وہ اِس سسٹم کا حصہ بنتے چلے جاتے ہیں۔

یہ کتاب اُن نوآبادکاروں کو بھی زیر بحث لائی ہے جو کالونی میں آکر کالونیل سسٹم کورد کر دیتے ہیں لیکن کالونی سے واپس اپنے آبائی وطن نہیں جاتے اور ایک ایسے منافق کاروپ دھار لیتے ہیں جو کالونیل نظام کو رد تو کر تے ہیں لیکن اُس کی مراعات سے مستفید ہوتے رہتے ہیں۔ ایسے فرد کے پاس کالونیل نظام کو رد کرنے کی بیشتر وجوہات ہوتی ہیں۔ خاص طور پر محکوم قوم کی بھوک اور ننگ کو دیکھ کر ایسا نوآباد کار اپنے اندر بے چینی محسوس کرتاہے۔ ایسا اِس لیے بھی ہوتاہے کہ وہ تازہ تازہ ایک ایسے سماج سے آیا ہوتاہے جہاں قانونی اور سماجی سطح پر برابری کا منظر نامہ تھا۔ وہ کالونیل نظام کے خلاف بات توکرتا ہے، یہاں تک کہ مذمت بھی کرتا ہے لیکن مراعات حاصل کرنے کے حوالے انکار نہیں کرتا۔ ایسا نو آباد کار کالونی میں رہتے ہوئے اپنی شناخت کو ختم نہیں کرتا اپنے تہذیبی ورثے، روایا ت، مذہب اور زبان کو کالونی میں بھی بحال رکھنے کی کوشش کرتاہے۔ ایسے میں اگر اُس نوآباد کار کا تعلق بائیں بازو کے افکار کے ساتھ ہوتو اُس کی کنفیوزن اور بڑھ جاتی ہے، کیونکہ وہ آزادی کے حصول کے لیے عسکری جدوجہد خاص طور پر عورتوں اور بچوں کی اموات کے خلاف بھی ہوتاہے۔ بالکل اِسی طرح جب وہ آزادی کے حصول کے لیے مذہبی افکار کے استعمال کو بھی دیکھتا ہے تب بھی وہ کنفیوز ہوجاتا ہے کہ اُس کی نظر میں مذہب نے ہی تو محکوم قوم کو جمود کا شکار کیا ہوا تھا۔ وہ آزادی اور جمہوریت کو مذہب میں ملفوف دیکھتا ہے تو اُس کی اُلجھن میں مزید اضافہ ہو جاتاہے۔ کیوں کہ وہ خود کو ایسے حالات میں نوآباد شدہ لوگوں سے الگ تھلگ محسوس کرتا ہے کہ نوآباد شُدہ لوگوں کا فوری مسئلہ آزادی ہوتا ہے بجائے اِس کے کہ وہ یہ دیکھیں کہ اُنھیں آزادی کس ذریعے سے مِل رہی ہے۔ ایسا نوآباد کار نوآبادیاتی نظام کے پیچیدہ تضادات میں الجھتے اُلجھتے بیگانگی کا شکار ہوجاتا ہے۔ نوآبادیاتی نظام کو رد کرنے والا نوآباد کا ایک طرف تونوآباد شدہ عوام کی طرف سے پہلے بیان کردہ عوامل کے سبب رد کر دیا جاتاہے اور دوسری طرف اگر وہ نوآبادیاتی نظام کے خلاف زیادہ چیخے چلائے تو اُسے واپس آبائی وطن بھیج دیا جاتاہے۔

اس کتاب میں اُس نوآبادکار کو بھی زیر بحث لایا گیا ہے جو بغیر کسی کنفیوزن کے سارے کالونیل نظام کو قبول کرتاہے اور اُن سارے ہتھکنڈوں کا استعمال کرتاہے جو طاقتور محکوم سے اپنی بات منوانے کے لیے استعمال کرتاہے۔ اِس ضمن میں نوآبادکار مذہب، تاریخ، روایات، معاش، سیاست اور زبان گویا کہ زندگی کے ہر ہر پہلو پر اپنی حاکمیت کا جواز پیش کرتاہے۔ ایسا کرنے کے لیے وہ اپنی نسلی، مذہبی،سائنسی، تہذیبی اورمعاشی برتری کو ہر ہر قدم پر ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہوئے خود کو محکوم قوم کے سامنے ایک نجات دہندہ اور اعلی انسان کے طور پر پیش کرتا ہے جو اُن کے ہر ہر جمود کو توڑنے کی سعی کرتاہے۔ وہ نو آباد شُدہ کو اپنے من چاہے رنگ میں رنگنے کے لیے ہر طرح کے ظلم وستم روا رکھنے کے لیے تیار رہتا ہے۔ ایسا نوآباد کار اپنے وطن میں تو روشن خیال اور جمہوریت پسند ہوتاہے لیکن نوآبادیات میں نسل پرست اور فسطائی ہوتاہے۔
البرٹ میمی کتاب کے اگلے حصے میں نوآباد شدہ قوم کی ذہنی ساخت اُن کے سوچنے سمجھنے کے انداز پر بحث کرتا ہے کہ ایک وقت ایسا بھی آتاہے نوآبادشدہ قوم کے اوپر، جب وہ قوم خود کو نوآبادکار کی آنکھ سے دیکھنے لگتی ہے۔ محکوم قوم دھیرے دھیرے اُن تمام الزامات کو سچ ماننے لگتاہے جو اُن کے اوپر نوآبادکار کی طرف سے عائد کیے جاتے ہیں۔ وہ خود کوبزدل، سست، فضول خرچ، کنجوس، ظالم، علم دشمن اور ناجانے کیا کیا سمجھنے لگتے ہیں۔ حالانکہ اِن میں سے بہت سے ایسے الزام بھی ہوتے ہیں جو براہ راست ایک دوسرے کی ضد ہوتے ہیں۔ محکوم قوم اپنے آبائی ہیروز سے لے کر زبان و ثقافت تک کو پسماندہ خیال کرنا شر وع کر دیتے ہیں۔ وہ نوآباد کار کی اِس بات کو بھی دہرانے لگتا ہے کہ اُس کی قوم ایک ناشکری قوم ہے جو نوآبادکار کی تمام تر خیرات اور فلاحی کاموں کے باوجود اُن کا شکر ادا کرنے کی بجائے اُن کے خلاف بغاوتیں کرتے ہیں۔ ایسے میں محکوم قوم کے بعض باشندے تبدیلی مذہب کے عمل سے بھی گزرتے ہیں لیکن بدقسمتی پھر بھی اُن کا تعاقب جاری رکھتی ہے۔ محکوم قوم آہستہ آہستہ خود کو غلام محسوس کرنے لگتی ہے۔ وہ آہستہ آہستہ خود کو اُس شبیہہ کے مطابق تراشنے لگتا ہے جیسا نو آبادکار چاہتاہے۔ نوآبادکاری کے اِس عمل میں مختصر مدت کے عرصے میں نقصان دونوں طرف کا ہوتاہے چاہے وہ نوآباد کار قوم ہو یا نوآباد شد قوم، وقت کی دستبرد سے بچتا کوئی نہیں۔
البرٹ میمی کے مطابق دنیا سے نوآبادیات کا خاتمہ انسان کی حقیقی آزادی کے لیے ازحد ضروری ہے۔نوآبادیاتی نظام جہاں محکوم قوم کو تخلیقی صلاحیتوں، سیاسی،سماجی اور معاشی عمل وارتقا پر حملہ آور
ہوتاہے وہیں نوآبادکاروں کے درمیان بھی دراڑیں ڈالنے میں کامیاب ہوجاتاہے اور حاکم قوم بتدریج تساہل پسندی کا شکار ہوتی چلی جاتی ہے۔ البرٹ میمی جہاں نوآبادکار قوم کو ہوش کے ناخن لینے کو کہتاہے وہیں نوآبادشدہ اقوام کو بھی اپنی کمیوں کوتاہیوں کی طرف رجوع کرنے کے بارے کہتاہے جن کے سبب وہ دنیا کی رفتار کا ساتھ نہیں دے سکے۔ وہ نوآباد شُدہ قوم کے اُس جمود کو توڑنے کی بھی بات کرتا ہے جس کے سبب وہ تکنیکی اور سائنسی طور پر ترقی یافتہ اقوام سے پیچھے رہ گئی تھی۔ بے شک آزادی کا حصول تمام انسانوں کی زندگی کے اعلی وارفع مقاصد میں سے ایک ہے۔ اگر ہم اِس کتاب کو آج تناظر میں دیکھیں تو ہم نوآبادکار اقوام کے اندر کی بے چینی کو آج واضح طور پر محسوس کرسکتے ہیں۔ آج وہ اپنے ہی ممالک میں خود کو معاشی طور پرکمزور محسوس کرتے ہیں اور اپنی اِس معاشی کمزوری کا سبب وہ اپنی کالونیوں سے آئے ہوئے لوگوں کو سمجھتے ہیں۔ کالونیل سماج کو سمجھنے کے لیے یہ کتاب ایک بنیاد کی سی حیثیت رکھتی ہے۔
