NE

News Elementor

What's Hot

ایران نے صہونی ریاست پر کامیاب حملہ

Table of Content

Author

یہ منظر غزہ نہیں، آج صبح تیل ابیب کا ہے۔ کل رات ایران نے صہونی ریاست پر درجنوں میزائیل کا کامیاب حملہ کیا جس کی ویڈیو اور تصاویریں اس وقت ٹویٹر پر گردش کررہی ہیں۔ کل غزہ میں اسرائیل نے امدادی کیمپ پر بھوک سے نڈھال فلسطینیوں پر فائرنگ کرکے 70 سے زائد شہوریوں کو شہید کردیا تھا۔ آج غزہ سے لے کر لبنان میں کل رات ایران کے اسرائیل کے حملوں کے بعد جشن کا سماں ہے۔ خوفناک نسل کشی کے باوجود لوگوں کے اندر صہونی ریاست سے مزاحمت کرنے کے جذبات مٹ نہیں رہے۔

ایران یہ مقابلہ 40 سال کی بدترین اقتصادی اور عسکری پابندیوں کے باوجود کررہا یے۔ ہم اپنی آنکھوں کے سامنے تاریخ رقم ہوتے دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح ایک ملک تنہا امریکی سامراج اور اس کے پالتو کے آگے ڈٹ گیا یے۔ ایک زمانے میں شام لیبیا، عراق، مصر، یمن اور دیگر کئی ممالک میں سامراج مخالف حکومتیں قائم تھیں جو صہونی قوت سے لڑنے کے لئے تیار تھیں۔ ایک ایک کرکے اسرائیلی-امریکی-خلیجی گٹھ جوڑ نے ان ریاستوں کو تباہ کیا اور خطہ کے اندر آزادی اور سالمیت کے خواب کمزور کردیئے۔ ریاستیں تباہ کردی گئیں۔ اقتدار کٹھ پتلی “لیڈران” کے حوالے کردیا گیا جبکہ تیل اور دیگر قیمتی معدنیات پر امریکی اور اسرائیلی اجارہ داری قائم کرلی گئی۔ اس سب منصوبہ بندی کا مقصد کسی بھی متبادل قوت کو تباہ کرنا ہے جو استعماری حکمت عملی سے ہٹ کر فیصلہ کرسکے۔

ایران خطے میں اس سو سالہ منصوبندی کے سامنے آخری چٹان یے۔ اگر ایران کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کرکے، اس کی ٹیکنالوجی کو تباہ کرکے، اور اس کے تیل پر قبضہ کرکے وہاں پر رضا پہلوی جیسے وطن فروشوں کو بیٹھا دیا گیا تو دنیا میں کسی بھی قسم کے سامراج مخالف متبادل کا بننا مشکل ہوجائے گا۔ نسل کش ریاست ایران میں جمہوریت نہیں، غلامی مسلط کرنا چاہتی یے۔ ایران کے غیور عوام، جن کی تہذیب امریکہ اور اسرائیلی مصنوعی تہذیب سے کئی زیادہ قدیم اور پروقار ہے، کسی صورت بھی ہتھیار ڈالنے کے موڈ میں نہیں۔ اگر عارضی طور پر عسکری شکست ہو بھی گئی تب بھی عوام عراق، اور ویتنام سے زیادہ شدید مزاحمت کرے گی۔ اسی لئے امریکی اسٹیبلشمنٹ امریکی فوجوں کو ایران داخل کرنے سے گھبرا رہے ہیں کیونکہ وہ ایرانی مزاج کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔

غزہ کے باشندوں کو استعماری قوتیں انسان بھی نہیں سمجھتے۔ غزہ ایک ایسے مستقبل کی علامت ہے جو اسرائیل اور امریکہ ہم سب پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ ایران ان قوتوں سے لڑ کر اس وقت صرف اپنا دفاع نہیں کرہا یے بلکہ بڑھتے ہوئے سامراجی غلبے کے دوران انسانیت کے لئے گنجائش پیدا کررہا یے۔ ایران اور اسرائیل میں مماثلت تلاش کرنے والے بنیادی طور پر انسانیت کی تذلیل کررہے ہیں۔ باشعور لوگوں پر فرض ہے کہ اس وقت ایران کی حمایت کریں تاکہ صہونی ریاست کو خطے پر تسلط قائم کرنے سے روکا جاسکے۔ پاکستان کی سالمیت اور استحکام بھی ایران کے ساتھ جڑا ہے۔ فیلڈ مارشل صاحب کو بھی یہ یاد رکھنا چاہئے کہ سالمیت اور استحکام سے زیادہ کوئی چیز ہمیں عزیز نہیں۔ ایک فون کال یا لنچ کی بنیاد پر خطے کی تقدیر کا فیصلہ پاکستانی عوام کبھی بھی نہیں ہونے دیں گے۔

ایران کے مزاحمت کاروں پر لاکھوں سلام۔ وہ دنیا کے لئے مثال ہیں۔ امید ہے کہ اسرائیل پر مزید حملے ہوں گے۔ کیونکہ بچوں کی نسل کشی کرنے والی ریاست کے اوپر آسمان اس وقت ہی خوبصورت لگتا ہے جب وہاں پر مزاحمت کاروں کے مزائیل پرواز کررہے ہوں۔

Ammar Ali Jan

Pakistani Political Activist and Historian.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Recent News

Trending News

Editor's Picks

عالمی آرڈر مکمل طور پر ختم ,وینیزویلا پر حملہ

Author Ammar Ali Jan Pakistani Political Activist and Historian. آج عالمی آرڈر مکمل طور پر ختم ہوچکا ہے۔ کئی ماہ سے امریکہ وینیزویلا کی حکومت پر منشیات کی سمگلنگ کا الزام لگا رہا تھا۔ آج بغیر کسی عالمی تحقیقات کے امریکہ نے نہ صرف وینیزویلا پر حملہ کیا، بلکہ یہ بھی دعوہ کیا کہ اس...

“گوشت” ناول مین بکر انعام جیت گیا۔

Author Dr. Furqan Ali Khan Medical doctor, activist ,writer and translator ” گوشت ” ایک غیر روایتی غربت سے دولت مند ہونے تک کی کہانی ہے۔ اس کتاب کا مرکزی کردار،” استوان ” کی کہانی کے ساتھ کھلتی ہے، جو کہ ہنگری کے ایک ہاؤسنگ پروجیکٹ میں رہنے والے ایک شرمیلا اور عجیب و غریب...

کچھ ایرانی ناول” اکائی”(منِ او) کے بارے میں

Author عبدالوحید افسانہ نگار ایرانی ناول “اِکائی ” (فارسی نام منِ او) نوے اور دوہزار کی دہائیوں کا ایران میں سب سے زیادہ پڑھا جانے والا ناول ہے۔ اِس کے لکھاری رضاامیر خانی ہیں جنھیں ایران کے سب سے بڑے ادبی ایوارڈ” جلال آل احمد ایوارڈ “سے نوازا جا چکا ہے، ایران میں خاصے مقبول...

خالد فتح محمد کی دو طویل کہانیاں

Author عبدالوحید افسانہ نگار خالد فتح محمد ہمارے عہد کا جانا پہچانا نام ہے۔ پاکستان میں پچھلے بیس سالوں میں جتنا فکشن کا کام اُن کاسامنے آیا ہے شاید ہی کسی اور کا ہمارے سامنے آیا ہو۔ ابھی حال ہی میں ان کی دو طویل کہانیوں پر مبنی کتاب ” 2 طویل کہانیاں ” کے...

ٓ کتاب استعمار اور محکوم پر ایک اظہاریہ

Author عبدالوحید افسانہ نگار ابھی حال ہی میں البرٹ میمی کی شہرہ آفاق کتاب colonizer and colonized کا اردو ترجمہ جناب وقار فیاض صاحب نے” استعمار اورمحکوم “کے عنوان سے کیا ہے۔ مجھ جیسے لوگ جو انگلش میں پورے پورے ہیں اُن کے لیے یہ ترجمہ شدہ کتاب خاصی اہم ہے کیونکہ یہ کتاب اپنے...

News Elementor

Right Info Desk – A Different Perspective

Popular Categories

Must Read

©2025 – All Right Reserved by Right Info Desk