Author
-
Pakistani Political Activist and Historian.
نسل کش ریاست اسرائیل نے قطر پر حملہ کردیا ہے۔ ان کا ٹارگٹ حماس کی اعلی قیادت تھی ہے جو امریکہ کی طرف سے پیش کئے گئے ایک ممکنہ امن معادے پر بحث ہے لئے دوہا میں جمع ہوئی تھی۔ فلسطین، لبنان، شام، تیونس اور یمن کے بعد قطر چھٹا ملک ہے جس پر اسرائیل نے اس ہفتے حملہ کیا ہے۔ اس حملے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ یہ امریکہ نواز خلیجی ریاست پر کیا گیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل خطے میں کسی بھی ریاست کو اپنا پارٹنر نہیں سمجھتا اور تمام ریاستوں پر مکمل بالادستی قائم کرنا چاہتا ہے۔
اس حملے سے ایک بار پھر واضح ہوگیا کہ آج کے دور میں عالمی قوانین یا ورلڈ آرڈر کی کوئی حیثیت نہیں۔ ایسی صورتحال میں اگر بیرونی جارحیت کا جواب عسکری قوت سے نہیں دیا جائے گا تو پھر امن کی طرف بڑھنے کے بجائے ظالم جنگ کا دائرہ کار وسیع کرتا جائے گا۔ دوسری جانب یہ بات بھی ذہن میں رکھنا اہم ہے کہ قطر میں امریکی اڈے موجود ہے۔ اس کے باوجود اسرائیل نے قطر پر حملہ کردیا ہے اور کچھ اطلاعات کے مطابق امریکی انٹیلیجنس نے اسرائیل کی معاونت بھی کی ہے۔ یعنی امریکی اڈے صرف خطے میں سامراجی مفادات کی حفاظت کے لئے قائم ہیں اور وہ میزبان ملک کی حفاظت کی بھی گارنٹی نہیں دے سکتے۔ پہلے ہی خلیجی ممالک میں سالمیت کے سوال پر بحث موجود ہے اور اس حملے کے بعد عوامی سطح پر یہ بحث مزید شدت اختیار کرے گی۔
پاکستان میں ہمارے بھائی لوگوں کو بھی خیال رکھنا چاہئے۔ امریکہ کے ساتھ معدنیات جیسی ڈیل کرکے یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ امریکہ اب ہماری سکیورٹی گارنٹی دے گا۔ امریکہ نے پہلے بھی آپ کو ٹیشو پیپر کی طرح استعمال کیا اور اب بھی یہی حال کرے گا۔ اس لیے ان معادوں سے اپنے ملک کو بچائیں جن کے ذریعے آپ سے خطے کی تباہی کا کام لیا جائے گا اور اپنے وطن کو اغیار کے لئے میدان جنگ بنایا جائے گا۔ ہنری کسنجر نے صحیح کہا تھا کہ امریکہ کی دوستی اس کی دشمنی سے زیادہ خطرناک ہے
