Author

آج عالمی آرڈر مکمل طور پر ختم ہوچکا ہے۔ کئی ماہ سے امریکہ وینیزویلا کی حکومت پر منشیات کی سمگلنگ کا الزام لگا رہا تھا۔ آج بغیر کسی عالمی تحقیقات کے امریکہ نے نہ صرف وینیزویلا پر حملہ کیا، بلکہ یہ بھی دعوہ کیا کہ اس نے صدر مڈورو اور ان کی اہلیہ کو اغوا کرلیا ہے۔ یہ وینیزویلا اور امریکہ کے درمیان پہلی کشیدگی نہیں ہے۔ 1998 میں جب عوام نے سوشلسٹ لیڈر ہوگو شاویز کو منتخب کیا، اس وقت سے ہی امریکہ کی کوشش رہی ہے کہ ملک میں عدم استحکام رہے۔ 2002 میں فوج کے ذریعے شاویز کو ہٹایا گیا لیکن 48 گھنٹوں میں عوام کے ایک ہجوم نے اسے واپس اقتدار پر بٹھادیا۔ 2002 سے لیکر اب تک کئی بار رجیم چینج کی کوشش کی گئی اور 2012 سے لے کر اب تک ملک پر مسلسل پابندیوں کا سلسلہ شروع ہوا جس کی وجہ سے معیشت تباہی کے دہانے پر آگئی۔ پھر چند ماہ قبل اپوزیشن لیڈر کو نوبل پرائز بھی نوازا گیا۔ یہ وہ لیڈر ہے جو کہتی ہے کہ اسرائیل اور وینیزویلا کی منزل ایک ہے جبکہ مڈورو فلسطین کا بہت بڑا حمایتی ہے۔
اقوام متحدہ کے ایک ممبر ملک کے صدر اور ان کی بیوی کو اس طرح اغوا کرنا 19 ویں صدی کی یاد تازہ کردیتا ہے جب لاطینی امریکہ میں Monroe Doctrine کا راج تھا۔ یہ ڈاکٹرائن صدر جیمز مینرو سے منسوب ہے جنہیں نے 1823 کہا تھا کہ لاطینی امریکہ کے ممالک، جن میں ونیزویلا بھی شامل ہے، امریکی تسلط کے تابع رہیں گے۔ اس پالیسی کی وجہ سے اس خطے کے عوام اور وسائل کا امریکی کمپنیوں کی طرف سے بے پناہ استحصال کیا گیا اور وہاں پر اپنی مرضی کی حکومتیں بنائی گئیں۔ بیسویں صدی کے انقلابات، جن میں کیوبا کا انقلاب سر فہرست ہے اس مینرو ڈاکٹرائن کے خلاف بغاوت تھی جس کو کچلنے کے لئے امریکہ نے پورے خطے میں فوجی جرنیلوں کا سہارا لیا۔ اس کی بدترین مثال چلی میں 1973 میں سی آئی اے نے فوجی بغاوت کے ذریعے حکومت کا تختہ الٹنے کی تھی جس میں ایک روز 4000 لوگوں کا قتل عام کیا گیا۔
آج کا واقعہ اس بھیانک واقعے سے بھی کئی قدم آگے ہے جس میں ایک ملک نے طاقت کے بلبوتے پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ دوسرے ملک کے حکمران کے ساتھ کیا سلوک ہونا چاہئے۔ اسرائیل کی غزہ میں نسل کشی اور پوری عرب دنیا اور ایران کی قیادت پر فوجی حملے، اور “انٹرنیشنل کمیونٹی” کی اس پر خاموشی نے آج کی جارحیت کی راہ ہموار کی ہے۔ اگر اسرائیل اپنے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے عالمی قوانین کی دھجیاں اڑا سکتا ہے، تو پھر دوسرے ممالک یہ سب کیوں نہیں کرسکتے؟
میں ایک سال سے یہ لکھ رہا ہوں کہ مغربی جارحیت کا اصل ہدف چین ہے کیونکہ وہ ایک واحد ملک ہے جو ٹیکنالوجی پر مغربی اجارہ داری کو ختم کررہا ہے۔ یہ کام 400 سال میں پہلی بار ہورہا ہے اور اس کی وجہ سے مغرب کے اندر بے پناہ تشویش پائی جاتی ہے۔ معاشی طور پر امریکہ چین سے پیچھے جاتا جا رہا ہے، حتی کہ لاطینی امریکہ سمیت تمام خطوں میں تجارتی لحاظ سے چین سرفہرست ہے۔ لیکن امریکہ کے پاس آج بھی عسکری برتری موجود ہے۔ چین کی پالیسی تھی کہ عسکری قوت کے دکھاوے کے بجائے کچھ دہائیوں کا انتظار کیا جائے تاکہ امریکہ کے مقابلے میں معاشی برتری بڑھائی جاسکے۔ لیکن امریکہ کی پالیسی ہے کہ اپنی عسکری قوت کا بھرپور استعمال کرکے چین کے اردگرد گھیرا تنگ کیا جائے۔ چین اس حکمت عملی کے لئے تیار نہیں ہے۔
میرا دعوی ہے کہ تیسری جنگ عظیم کی بنیاد رکھی جاچکی ہے۔ اس جنگ میں بیک وقت تمام ممالک پر حملہ نہیں ہوگا۔ سامراج ایک ایک کر کے مغرب مخالف ممالک کو تباہ کرہا ہے۔ اس وقت وہ دنیا کو یہ چوائس دے رہا ہے کہ یا پھر ہماری جنگی پالیسی میں حصہ دار بنو یا پھر کھنڈر بننے کے لئے تیار رہو۔ پاکستان کو بھی یہی آفر ہوئی ہے۔ یا اپنے خطے کو مسلسل جنگوں کا محور بناو یا پھر پم سے جنگ کی تیاری کرو۔ افسوس کے ہمارے حکمرانوں نے اس سنجیدہ مسئلے پر بحث کرنے کے بجائے آنکھیں بند کرکے جنگ میں جانے کا فیصلہ کیا ہے اور مخالف آوازوں کو دبانے کے لئے قوانین اور ترامیم کا استعمال کیا جارہا یے۔ یہ معاملہ خصوصی طور پر خوفناک اس لیے ہے کیونکہ وینیزویلا کے بعد اگلا نشانہ ایران ہے جس پر بہت جلد امریکی اور اسرائیلی حملے کا خطرہ ہے۔ اگر ہماری پالیسی واضح نہ ہوئی تو اس دلدل میں پھنسے کا شدید خطرہ موجود ہے۔
ایک بات بلکل واضح ہے کہ عالمی سطح پر اب انسانی حقوق یا جمہوریت کی باتیں صرف جھوٹ ہے جو مغرب رجیم چینج کے لئے استعمال کرتا ہے۔ عالمی نظام عسکری معاملات کے تابع ہوچکا ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے جس کو قبول کئے بغیر کوئی بھی مزاحتی حکمت عملی بنانا فضول ہے۔ اب معاملات کسی آئیڈیل آزادی کے حصول کے نہیں ہوں گے مگر سنجیدہ بحث اس بات پر ہوگی کہ سالمیت اور ملکی دفاع کے فیصلوں کو جمہوری کیسے بنایا جائے۔ آج ہمیں بھی ایک دیرپہ حکمت عملی کی ضرورت ہے تاکہ خطے میں عدم استحکام کی پالیسی کو رد کرتے ہوئے ایک آزادانہ حکمت عملی بنائے۔ اس کے لئے مزاحمتی تحریکوں کو پاکستان کے حکمران طبقات کو غزہ سے لے کر فاٹا تک ڈالری جنگوں سے دور رکھنے کے لئے جدوجہد کرنی ہوگی۔ ورنہ ہمارا انجام بھی بھیانک۔ ہوگا۔
