NE

News Elementor

What's Hot

برصغیر میں ریاست کی بنیاد انگریز استعمار نے سکیورٹی کے زاویے سے رکھی

Table of Content

Author

برصغیر میں ریاست کی بنیاد انگریز استعمار نے سکیورٹی کے زاویے سے رکھی۔ جس دور میں یورپ میں جمہوریت اور انسانی حقوق کے لئے قانون سازی کی جارہی تھی، اسی دور میں نوآبادیات میں عسکری چھاؤنیوں کے اردگرد انتظامی ڈھانچہ تشکیل دیا جارہا تھا۔ جمہوریت کے بجائے بذریعہ خوف حکمرانی کی گئی اور مسلسل ہر وطن پرست کو انگریز سرکار نے باغی اور غدار قرار دیا۔ یہی وجہ ہے کہ امرتسر میں سینکڑوں نہتے شہریوں پر گولی برسانے والے جنرل ڈائر کو عدالتی کمیشن نے معاف کردیا جبکہ بھگت سنگھ جیسے آزادی پسند کو تختہ دار تک پہنچا دیا۔


برصغیر میں آزادی کی لڑائی میں ایک بڑا پہلو قانون کی بالادستی قائم کرنا رہا یے۔ یہ بظاہر غیر انقلابی فعل لگتا ہے کیونکہ بہرحال قانون طبقاتی معاشرے میں کبھی بھی انسانوں کو یکساں انصاف فراہم نہیں کرسکتا۔ لیکن قانون بننے سے کم از کم طاقت کی ایک حد کا تعین ہوجاتی ہے جس کی بنیاد پر تحریکیں اپنے حقوق کے کئے جدوجہد کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نوآبادیاتی نظام کے خلاف آئینی حقوق کے حصول کے لئے برصغیر سمیت تیسری دنیا کے ہر خطے میں بڑی بغاوتیں ہوئی ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ 20 ویں صدی میں جہاں بھی آئین کی حکمرانی قائم ہونے لگتی تھی، وہاں پر امریکی سامراج نے مسلسل عسکری قوتوں کی حمایت کرکے آئینی نظام کو لپیٹا اور اس کے مقابلے میں فوجی آمریتوں کو قائم رکھنے کو ترجیح دی۔

پاکستان اسی تاریخ کا حصہ یے جس میں نو آبادیاتی نظام سے کے کر اب تک آئین کی بالادستی اور جمہوریت کی لڑائی ہماری سیاست کا ایک بنیادی جز رہی یے۔ 1973 کا آئین ہمیں بھیک میں نہیں ملا۔ اس کے لئے50 اور 60 کی دہائی میں عوامی حلقوں نے شاندار قربانیاں دیں اور بنگلہ دیشی عوام کو نسل کش تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے بعد آئین ملا جس کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت گرا کر اسے پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ ایم آر ڈی کی تحریک نے جنرل ضیاءالحق کی خوفناک آمریت کا بھرپور مقابلہ کیا اور صرف سندھ میں سینکڑوں لوگ شہید ہوئے۔ مشرف دور میں سیاسی کارکنوں کے ساتھ ساتھ اوکاڑہ ملٹری فارم اور وکلا تحریک جیسی مزاحمت کی مثالیں ہمیں ملتی ہیں۔

اس سب تاریخ کے دوہرانے کا مقصد یہ یے کہ ہمیں آئین بھیک میں نہیں ملا بلکہ عوام کی جدوجہد کے زریعے حکمران طبقات عوام کو کچھ تحفظ دینے پر مجبور ہوئے ہیں۔ 27 ویں ترمیم جمہوریت، انسانی حقوق اور انصاف کے لئے اس لازوال قربانیوں کے سفر کی نفی ہے جس میں عدالتی نظام سے لے کر پارلیمنٹ تک ہر پہلو کو اس ادارے کے ماتحت کیا جارہا ہے جس کا دنیا کو دیکھنا کا زاویہ جنگ اور سکیورٹی کے سوا کچھ نہیں۔ ایسے میں یہ کہنا کہ یہ آئین کی لڑائی صرف حکمران طبقے کی آپسی لڑائی ہے نہ صرف ایک غیر انقلابی بلکہ ایک غیر سیاسی نقطہ نظر ہے۔ جس شخص نے تھوڑی بہت مزاحمتی سیاست بھی کی یے، وہ جانتا ہے کہ مشکل وقت میں عدلیہ، میڈیا اور سیاسی نمائندوں کی ضرورت پڑتی یے۔ جب ان سب کو دفن کردیا جائے گا تو مزاحمت کاروں کے دفاع کے لئے کئی دروازے بند ہوجائیں گے۔

دوسری بات یہ کہ انقلابی سیاست ہوا میں نہیں ہوتی بلکہ اپنے معروض کے مطابق کی جاتی ہے۔ اور جمہوریت کی لڑائی میں ہمیشہ بائیں بازوں اور ترقی پسند لوگوں کا کلیدی کردار رہا ہے۔ لیکن ایک ایسے وقت میں جب فرعون نما حکمران عوام کو دئے گئے چند حقوق بھی ان سے چھین رہے ہیں آئینی ایشوز پر خاموشی اختیار کرنا یا اسے غیر اہم تصور کرنا یا تو بزدلی کہلائے گا یا پھر کم عقلی۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں سوشلزم کی لڑائی آئین کی پاسداری اور جمہوری قدروں کے دفاع کے ساتھ جڑی ہوئی یے۔ جو ان حالات میں آئینی ایشوز پر خاموشی اختیار کرتے ہیں وہ اپنی تاریخی زمیداری سے انحراف کرتے ہیں۔۔

پاکستان مین ایک بار پھر جنرل ڈائر کا نظام لاگو ہورہا یے۔ اس عمل میں اسٹیبلشمنت کے ساتھ ن لیگ اور پی پی کلیدی کردار ادا کررہی ہیں۔ 27 ویں ترمیم کے خلاف ایک بڑی تحریک بنانے کی ضرورت ہے۔ اس پر کام شروع ہوچکا یے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ اس تحریک کو معدنیات کی لالچ، کارپوریٹ فارمنگ، طلبا و ٹریڈ یونین، جبری گمشدگیوں، اور آزاد خارجہ پالیسی جیسے ایشوز کے ساتھ جوڑا جائے۔ ایک ملک گیر وسیع اتحاد ہی اس آمریت کا مقابلہ بھی کرسکتا ہے اور سکیورٹی سٹیٹ سے سوشلسٹ سٹیٹ کی طرف سفر کا آغاز بھی کرسکتا ہے۔ لیکن اس لڑائی کے اندر جمہوریت کی بحالی اور آئین کی بالادستی کے مطالبات نا صرف اہم ہیں بلکہ ناگزیر ہیں۔ اگر لیفٹ اس لڑائی سے دستبردار ہوگا تو خطہ آمریت اور جنگ کی زد میں آکر برباد ہوجائے گا اور تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی

Ammar Ali Jan

Pakistani Political Activist and Historian.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Recent News

Trending News

Editor's Picks

عالمی آرڈر مکمل طور پر ختم ,وینیزویلا پر حملہ

Author Ammar Ali Jan Pakistani Political Activist and Historian. آج عالمی آرڈر مکمل طور پر ختم ہوچکا ہے۔ کئی ماہ سے امریکہ وینیزویلا کی حکومت پر منشیات کی سمگلنگ کا الزام لگا رہا تھا۔ آج بغیر کسی عالمی تحقیقات کے امریکہ نے نہ صرف وینیزویلا پر حملہ کیا، بلکہ یہ بھی دعوہ کیا کہ اس...

“گوشت” ناول مین بکر انعام جیت گیا۔

Author Dr. Furqan Ali Khan Medical doctor, activist ,writer and translator ” گوشت ” ایک غیر روایتی غربت سے دولت مند ہونے تک کی کہانی ہے۔ اس کتاب کا مرکزی کردار،” استوان ” کی کہانی کے ساتھ کھلتی ہے، جو کہ ہنگری کے ایک ہاؤسنگ پروجیکٹ میں رہنے والے ایک شرمیلا اور عجیب و غریب...

کچھ ایرانی ناول” اکائی”(منِ او) کے بارے میں

Author عبدالوحید افسانہ نگار ایرانی ناول “اِکائی ” (فارسی نام منِ او) نوے اور دوہزار کی دہائیوں کا ایران میں سب سے زیادہ پڑھا جانے والا ناول ہے۔ اِس کے لکھاری رضاامیر خانی ہیں جنھیں ایران کے سب سے بڑے ادبی ایوارڈ” جلال آل احمد ایوارڈ “سے نوازا جا چکا ہے، ایران میں خاصے مقبول...

خالد فتح محمد کی دو طویل کہانیاں

Author عبدالوحید افسانہ نگار خالد فتح محمد ہمارے عہد کا جانا پہچانا نام ہے۔ پاکستان میں پچھلے بیس سالوں میں جتنا فکشن کا کام اُن کاسامنے آیا ہے شاید ہی کسی اور کا ہمارے سامنے آیا ہو۔ ابھی حال ہی میں ان کی دو طویل کہانیوں پر مبنی کتاب ” 2 طویل کہانیاں ” کے...

ٓ کتاب استعمار اور محکوم پر ایک اظہاریہ

Author عبدالوحید افسانہ نگار ابھی حال ہی میں البرٹ میمی کی شہرہ آفاق کتاب colonizer and colonized کا اردو ترجمہ جناب وقار فیاض صاحب نے” استعمار اورمحکوم “کے عنوان سے کیا ہے۔ مجھ جیسے لوگ جو انگلش میں پورے پورے ہیں اُن کے لیے یہ ترجمہ شدہ کتاب خاصی اہم ہے کیونکہ یہ کتاب اپنے...

News Elementor

Right Info Desk – A Different Perspective

Popular Categories

Must Read

©2025 – All Right Reserved by Right Info Desk