NE

News Elementor

What's Hot

ٹرمپ کے غزہ پلان پر 9 نکات

Table of Content

Author

1۔ یہ معاہدہ فلسطینی قیادت اور عوام کو اعتماد میں لئے بغیر کیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے یہ سامراجی

 قوتوں اور اس کے حواریوں کی طرف سے غزہ پر مسلط کیا گیا ہے۔ 2 سال کی مسلسل بربریت اور نسل کشی کے بعد حماس اور دیگر مزاحمتی گروہوں کے پاس اس کو منظور کرنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں تھی۔ لیکن یہ معاہدہ کالونیل تسلط کا تسلسل ہے۔
2۔ یہ معاہدہ دیرپا امن قائم نہیں کرسکتا۔ امن کے لئے انصاف کا حصول سب سے اہم جز ہوتا ہے۔ فلسطین کے لئے اس وقت نہ ریاست کے قیام کی گارنٹی ہے اور نہ ہی نسل کشی کے لئے کوئی ازالہ کیا جارہا یے۔ یہ معاہدہ نیتن یاہو کی تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا یے۔ ایک نسل کش انسان کو عزت دی گئی یے جبکہ جن کی نسل کشی ہوئی ہے، ان کو نمائندگی تک نہیں ملی۔ تصور کریں کہ اگر دوسری جنگ عظیم کے بعد امن کے نام پر ہٹلر کے تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے امن قائم کیا جاتا۔ فلسطین میں ایسا ہی ہورہا ہے۔
3۔ اس نسل کشی نے لبرل عالمی آرڈر کو تحس نحس کردیا ہے۔ ان دو سالوں میں اسرائیل نے ہر ریڈ لائن کو کراس کیا ہے۔ صحافیوں پر حملے کئے، ہسپتالوں اور سکولوں کو تباہ کیا، حتی کے پناہ گزینوں کے کیمپوں پر بھوک سے نڈھال خواتین اور بچوں کا قتل عام کیا۔ انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس نے نیتن یاہو کو جنگی مجرم قرار دیا لیکن اس کے خلاف کاروائی کرنے کے بجائے مغربی دنیا نے انہیں نسل کشی کے دوران مسلسل ہتھیار فراہم کئے۔ یعنی وہ مغربی ممالک جو ہمارے ملکوں میں جمہوریت اور انسانی حقوق کے نام پر فنڈنگ دیتے ہیں، نسل کش ریاست کی حمایت میں ڈھٹائی کے ساتھ کھڑے رہے۔
4۔ اس نسل کشی کے دوران مغرب میں نوجوانوں میں اسرائیل کے خلاف جذبات بڑھتے گئے، جس کے خلاف ریاست نے کریک ڈاؤن کیا۔ اس خبر کا فائدہ رجعتی قوتوں نے اٹھایا جنہوں نے مسلمانوں کے خلاف نفرت کو ہتھیار بنا کر مغرب میں فاشزم کو مزید مستحکم کیا۔ اس لڑائی کے نتیجے میں مغرب کے چہرے سے “لبرل” ماسک بھی گر گیا کیونکہ وہاں پر موجود رجعتی قوتوں نے مذہبی نفرت کو صلیبی جنگوں سے جوڑ کر ایک ایسا محاذ کھڑا کیا جو فلسطین میں بچوں کی نسل کشی کو نظر انداز کرکے صہونی ریاست کے حق میں کھڑا ہوگیا۔ مغربی سامراج اور اس فاشسٹ رجحان کے درمیان تضاد نہیں بلکہ ہم آہنگی موجود ہے۔
5۔ اس لڑائی کے دوران یہ واضح ہوگیا کہ مغربی سامراج کسی بھی انسان پسند سوچ کا دوست نہیں ہے۔ مغربی ممالک نسانی حقوق کے حوالے سے جتنے مرضی سیمینار کروالیں، غزہ کے کھنڈرات ان سامراجی عزائم کی عکاسی کرتے ہیں۔ جو دوست واشنگٹن میں امریکی خوشنودی کے لئے ترپٹے رہے ہیں، ان کو اب شرمندہ ہو کر ایک آزادانہ پالیسی اپنانی چاہئے۔ اور جو دوست اس نسل کشی کے باوجود امریکہ اور چین میں مماثلت تلاش کررہے ہیں، ان کو بھی حقائق کو دیکھ کر سوچنا چاہئے کہ سامراج در حقیقت کیا ہوتا ہے۔
6۔ اس نسل کشی کے بعد عالی سیکیورٹی ڈھانچہ مکمل طور پر تبدیل ہوجائے گا۔ یوکرائن کی جنگ کی وجہ سے ٹرمپ نے پہلے ہی یہ اعلان کردیا ہے کہ امریکہ یورپ کی سیکورٹی کی گارنٹی نہیں لے گا۔ یہی پیغام سعودی عرب کو دیا گیا جس کی وجہ سے انہوں نے پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا یے۔ یورپ بھی 1945 کے بعد پہلی دفاع بڑے پیمانے پر اندرونی دفاعی صلاحیت کوبڑھانے پر پیسہ خرچ رہا ہے۔ یعنی ایک نیا سیکورٹی آرڈر، اور عالمی آرڈر، اب جنم لے رہا ہے۔
7۔ پاکستانی حکومت کا رویہ حالیہ دنوں میں شرمناک رہا ہے۔ ٹرمپ کے اعلان سے پہلے شہباز شریف نے ایک چاپلوسی بھری ٹویٹ میں اس پلان کا اعلان کیا۔ یہ ہمارے لئے ایک باعث شرم ہے۔ ابھی تک عوام کو یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ اگر غزہ میں اسرائل اور فلسطینی عوام کے درمیان تضاد بنا تو ہماری پوزیشن کیا ہوگی۔ کیا ہم نیتن یاہو کے ساتھ ہوں گے یا ہم فلسطینی عوام کا ساتھ دیں گے؟ ماضی میں جنر ضیا الحق نے فلسطینی عوام کے خلاف اردن کا ساتھ دیا تھا۔ کیا ہم پھر اس جرم مرتکب ہوں گے؟ اور اس معاڈے کو کیا ہم پاکستان میں معدنیات کی ڈیل کے ساتھ لنک کررہے ہیں؟ ان سوالات کا جواب ہمیں درکار ہے۔
8۔ ان دو سالوں میں پاکستان میں لبرل حلقوں کا کردار بھی عیاں ہوگیا ہے۔ یہ حلقہ مغرب کی طرح اس حد تک اسلام بیزار ہے کہ اسے غزہ میں نسل کشی کے دوران صہونی بربریت نظر نہیں ہے اور حماس کو اس سانحہ کا قصوروار قرار دے دیا۔ سینیٹر مشتاق سے لے کر پاکستان میں فلسطینی مزاحمت کے حق میں نکلنے والی ہر آواز کے خلاف انہوں نے پروپیگنڈہ کیا ہے۔ لیفٹ کے ساتھیوں کے لئے یہ واجب ہے کہ پاکستانی ریاست کی مخالفت کے ساتھ ساتھ ان لبرل قوتوں کی بھی مخالفت کریں جو امریکی سامراج کے ساتھ ساتھ اسرائیلی بیانئے کی حمائت کرتے ہیں۔
9۔ یہ جنگ پاکستان ہر بھی مسلط ہوگی۔ اسرائیل نے پچھلے دو سالوں میں 7 ممالک پر حملہ کیا ہے۔ ہماری عسکری قیادت معدنیات کی لالچ میں پاکستان کو امریکی جنگوں میں دھکیلنا کا پلان بنا چکی ہے۔ اب عوام پر یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ملک بھر میں ایک جنگ مخالف محاذ تشکیل دیں تاکہ مغربی تسلط کو روکا جاسکے۔ دوسری جانب یہ اہم ہے ہم خطے میں چین، ایران، افغانستان اور دیگر ممالک کے ساتھ رابطے پختہ کریں۔ امریکی عالمی آرڈر تباہی کے علاوہ کچھ نہیں دے سکتا۔ اب ترقی پسند قوتوں کی ذمہ داری ہے کہ ایک حکمت عملی دیں جو پاکستان کو جنگ سے دور رکھ کر ایک خوشحال معاشرے کی طرف لے کر جائے۔ پاپا جونز کے نمائندے یہ کام نہیں کرسکتے۔ یہ منزل عوامی جفوھہد کے ذریعے ہی حاصل کی جاسکتی ہے۔

Ammar Ali Jan

Pakistani Political Activist and Historian.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Recent News

Trending News

Editor's Picks

عالمی آرڈر مکمل طور پر ختم ,وینیزویلا پر حملہ

Author Ammar Ali Jan Pakistani Political Activist and Historian. آج عالمی آرڈر مکمل طور پر ختم ہوچکا ہے۔ کئی ماہ سے امریکہ وینیزویلا کی حکومت پر منشیات کی سمگلنگ کا الزام لگا رہا تھا۔ آج بغیر کسی عالمی تحقیقات کے امریکہ نے نہ صرف وینیزویلا پر حملہ کیا، بلکہ یہ بھی دعوہ کیا کہ اس...

“گوشت” ناول مین بکر انعام جیت گیا۔

Author Dr. Furqan Ali Khan Medical doctor, activist ,writer and translator ” گوشت ” ایک غیر روایتی غربت سے دولت مند ہونے تک کی کہانی ہے۔ اس کتاب کا مرکزی کردار،” استوان ” کی کہانی کے ساتھ کھلتی ہے، جو کہ ہنگری کے ایک ہاؤسنگ پروجیکٹ میں رہنے والے ایک شرمیلا اور عجیب و غریب...

کچھ ایرانی ناول” اکائی”(منِ او) کے بارے میں

Author عبدالوحید افسانہ نگار ایرانی ناول “اِکائی ” (فارسی نام منِ او) نوے اور دوہزار کی دہائیوں کا ایران میں سب سے زیادہ پڑھا جانے والا ناول ہے۔ اِس کے لکھاری رضاامیر خانی ہیں جنھیں ایران کے سب سے بڑے ادبی ایوارڈ” جلال آل احمد ایوارڈ “سے نوازا جا چکا ہے، ایران میں خاصے مقبول...

خالد فتح محمد کی دو طویل کہانیاں

Author عبدالوحید افسانہ نگار خالد فتح محمد ہمارے عہد کا جانا پہچانا نام ہے۔ پاکستان میں پچھلے بیس سالوں میں جتنا فکشن کا کام اُن کاسامنے آیا ہے شاید ہی کسی اور کا ہمارے سامنے آیا ہو۔ ابھی حال ہی میں ان کی دو طویل کہانیوں پر مبنی کتاب ” 2 طویل کہانیاں ” کے...

ٓ کتاب استعمار اور محکوم پر ایک اظہاریہ

Author عبدالوحید افسانہ نگار ابھی حال ہی میں البرٹ میمی کی شہرہ آفاق کتاب colonizer and colonized کا اردو ترجمہ جناب وقار فیاض صاحب نے” استعمار اورمحکوم “کے عنوان سے کیا ہے۔ مجھ جیسے لوگ جو انگلش میں پورے پورے ہیں اُن کے لیے یہ ترجمہ شدہ کتاب خاصی اہم ہے کیونکہ یہ کتاب اپنے...

News Elementor

Right Info Desk – A Different Perspective

Popular Categories

Must Read

©2025 – All Right Reserved by Right Info Desk