NE

News Elementor

What's Hot

چارلی کرک اور امریکہ کا اندرونی بحران

Table of Content

Author

امریکہ کا اندرونی بحران مزید شدت اختیار کرگیا ہے۔ چارلی کرک کا امریکی کالج میں قتل امریکی سماج میں بڑھتی ہوئی نظریاتی خلیج اور تشدد کی علامت ہے۔ عمومی طور پر تشدد کے واقعات عوام کو جوڑنے میں مدد دیتے ہیں جیسا کہ جان کینیڈی کا قتل یا 11 ستمبر کے واقعات نے امریکی عوام کو آپس یکجا کرنے میں مدد دی تھی۔ لیکن آج وہ کیا سیاسی، سماجی اور معاشی محرکات ہیں جن کی وجہ سے اس طرح کے واقعات امریکہ میں اندرونی تضادات کو مزید گہرا کررہے ہیں؟


چارلی کرک ایک روایتی رجعتی سوچ رکھنے والا نوجوان تھا۔ اسے مسلمانوں سے شدید نفرت تھی، عورتوں کے حقوق سے بھی مسئلہ تھا، تارکین وطن کو ملک بدر کرنے کا حامی تھا، امریکی کالج کے نصاب پر شدید تنقیدرکھتا یے، اور ٹرمپ کی سیاست کا پرچار کرتا تھا۔ اس طرح کی سوچ رکھنے والے اور ان کی مخالف سوچ رکھنے والے امریکہ میں بیشمار ہیں لیکن پھر اس واقعے کو امریکی اور عالمی میڈیا میں اتنی اہمیت کیوں دی جارہی یے؟

پہلی وجہ یہ ہے کہ یہ حملہ ایک خطرناک رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ پچھلے دس سالوں میں امریکہ میں غیر معمولی واقعات رونما ہوئے ہیں۔ ٹرمپ کا دونوں بڑی سیاسی پارٹیوں کی قیادت کی مخالفت کے باوجود 2016 میں الیکشن جیتنا، نسل پرستوں کا Charlottesville میں ترقی پسند ریلی پر قاتلانہ حملہ کرنا، Black Lives Matter کے نام پر پولیس اور سیاہ فام لوگوں کے درمیان کشیدگی کا بڑھ جانا، ٹرمپ کا الیکشن ہار کر حکومت پر قبضے کی کوشش کرنا، ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے ٹرمپ کو گرفتار کرنے کی کوشش کرنا، پھر ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ ہونا اور اس کے بعد اس کا الیکشن جیت جانا ایک غیر معمولی بحران کی طرف اشارہ کررہے ہیں۔ اس بحرانی کیفیت کے پس پردہ امریکہ کا زوال پزیر معاشی نظام ہے جو مکمل طور پر ارب کھرب پتی لوگوں کے ہاتھ میں ہے اور جس کے خلاف ترقی پسند اور رجعتی قوتیں دونوں اپنے اپنے مخالف بیانئے کے ساتھ سرگرم ہیں ۔ چارلی کرکے کی طرح کے لوگ اس بحران کی ذمہ داری تارکین وطن جیسے معاشرے کی کمزور پرتوں پر ڈالتے ہیں جبکہ بائیں بازوں یا ترقی پسند قوتیں ان تمام پرتوں کو جوڑ کر ارب پتی مالکان کے خلاف سوشلزم کا نعرہ بلند کرکے یکجا کرنے کی کوشش کررہی ہیں، جیسا زوہران ممدانی نے حال ہی میں نیو یارک میں کیا۔

لیکن اس واقع کا ایک اور پہلو اسے امریکی سیاست کے لئے مزید خطرناک بنادیتا ہے۔ وہ ہے امریکی سامراج کی عالمی سٹیج پر کمزور ہوتی پوزیشن۔ کئی لبرل دانشور 9/11 کے بعد امریکہ کی مثال دیتے نہیں تھکتے تھے کہ کس طرح امریکی نے دہشت گردی کے باوجود اندرونی طور پر جمہوری ڈھانچے کو برقرار رکھا۔ لیکن وہ یہ پہلو بھول جاتے تھے کہ امریکی نے اس واقعے کو بہانہ بنا کر بعد افغانستان، عراق، لیبیا، شام، پاکستان اور یمن جیسے ممالک میں شدید بماری کی اور اسرائیل کو بھی کھلی چھوٹ دی کہ وہ ہمسائے ممالک کو تباہ کرے۔ روس سے سرد جنگ جیتنے کے بعد امریکی سامراجی کو عالمی سطح پر کوئی چیلنج کرنے والا نہیں تھا اور جو غم و غصہ امریکی عوام میں پھیلا ہوا تھا، وہ دنیا بھر کی عوام پر نکالا گیا۔

لیکن اب حالات یکسر تبدیل ہوگئے ہیں۔ امریکہ کو ان تمام ممالک میں شکست ہوئی ہے اور آج نہ امریکہ اپنے مخالفین کو روکنے میں کامیاب ہورہا یے اور نہ ہی اس کے اتحادی اس کی بات سن رہے ہیں۔ ایسے میں چارلی کرک کے واقعے کو بیرونی جنگوں سے جوڑنے کے بجائے اندرونی جبر کو مضبوط کرنے کے لئے استعمال کیا جارہا یے۔ بقول طارق علی یہ واقع امریکہ کا اندرونی 9/11 ہے جس کو بنیاد بنا کر رجعتی قوتیں اپنے مخالفین کو ٹارگٹ کریں گے۔ ٹرمپ نے اپنی تقریر میں نسل پرست چارلی کرک کو شہید کہا ہے اور یہ عندیہ دے دیا ہے کہ اس کی موت کے ذمہ دار اس کے نظریاتی مخالفین ہیں یعنی ترقی پسند قوتیں ہیں۔ ان بیانات کی وجہ سے خدشہ بڑھ رہا یے کہ امریکہ میں آنے والے دنوں میں مزید پرتشدد واقعات رونما ہوسکتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ جون میں اپنی کیمپین کے دوران زوہران ممدانی روز موصول ہونے والی قتل کی دھمکیوں کا ذکر کرتے ہوئے پریس کانفرنس میں آبدیدہ ہوگئے تھے۔

دوسری جانب یہ بات کرنا بھی اہم ہے کہ چارلی کرک کا قتل کس طرح عالمی میڈیا میں طاقت کے توازن کی عکاسی کرتا یے۔ اس قتل پر پوری دنیا کے میڈیا اور عہد حاضر کے فرعون نیتن یاہو نے غم کا اظہار بھی کیا اور اسے دنیا کی سب سے بڑی خبر میں تبدیل کردیا۔ لیکن چند دن پہلے یمن کے وزیراعظم کی اسرائلی حملے میں شہادت اور روز کے حساب سے غزہ میں شہید ہونے والے بچوں کا تذکرہ اب عالمی میڈیا میں عمومی طور پر چند منٹ تک ہی محدود رہتا ہے۔ ایک سیاسی اور سماجی طور زوال پذیر سامراج اب بھی عالمی ذرائع ابلاغ پر قابض ہے جس کے ذریعے وہ فیصلہ کرتا ہے کہ کن معمالات کو اہمیت ملنی چاہئے اور کن کو اگنور کرنا چاہئے، کن لوگوں کے قتل کو سانحہ قرار دینا چاہئے اور کن اموات کو ضمنی نقصان کے دائرے تک محدود کردینا چاہئے۔ یہ مناظر اور تفریق ہمیں باور کراتے ہیں کہ کیوں سامراج کی طرف سے تخلیق کی گئی ایک غیر مساوی دنیا کے خلاف لڑنا آج بھی ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے

Ammar Ali Jan

Pakistani Political Activist and Historian.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Recent News

Trending News

Editor's Picks

عالمی آرڈر مکمل طور پر ختم ,وینیزویلا پر حملہ

Author Ammar Ali Jan Pakistani Political Activist and Historian. آج عالمی آرڈر مکمل طور پر ختم ہوچکا ہے۔ کئی ماہ سے امریکہ وینیزویلا کی حکومت پر منشیات کی سمگلنگ کا الزام لگا رہا تھا۔ آج بغیر کسی عالمی تحقیقات کے امریکہ نے نہ صرف وینیزویلا پر حملہ کیا، بلکہ یہ بھی دعوہ کیا کہ اس...

“گوشت” ناول مین بکر انعام جیت گیا۔

Author Dr. Furqan Ali Khan Medical doctor, activist ,writer and translator ” گوشت ” ایک غیر روایتی غربت سے دولت مند ہونے تک کی کہانی ہے۔ اس کتاب کا مرکزی کردار،” استوان ” کی کہانی کے ساتھ کھلتی ہے، جو کہ ہنگری کے ایک ہاؤسنگ پروجیکٹ میں رہنے والے ایک شرمیلا اور عجیب و غریب...

کچھ ایرانی ناول” اکائی”(منِ او) کے بارے میں

Author عبدالوحید افسانہ نگار ایرانی ناول “اِکائی ” (فارسی نام منِ او) نوے اور دوہزار کی دہائیوں کا ایران میں سب سے زیادہ پڑھا جانے والا ناول ہے۔ اِس کے لکھاری رضاامیر خانی ہیں جنھیں ایران کے سب سے بڑے ادبی ایوارڈ” جلال آل احمد ایوارڈ “سے نوازا جا چکا ہے، ایران میں خاصے مقبول...

خالد فتح محمد کی دو طویل کہانیاں

Author عبدالوحید افسانہ نگار خالد فتح محمد ہمارے عہد کا جانا پہچانا نام ہے۔ پاکستان میں پچھلے بیس سالوں میں جتنا فکشن کا کام اُن کاسامنے آیا ہے شاید ہی کسی اور کا ہمارے سامنے آیا ہو۔ ابھی حال ہی میں ان کی دو طویل کہانیوں پر مبنی کتاب ” 2 طویل کہانیاں ” کے...

ٓ کتاب استعمار اور محکوم پر ایک اظہاریہ

Author عبدالوحید افسانہ نگار ابھی حال ہی میں البرٹ میمی کی شہرہ آفاق کتاب colonizer and colonized کا اردو ترجمہ جناب وقار فیاض صاحب نے” استعمار اورمحکوم “کے عنوان سے کیا ہے۔ مجھ جیسے لوگ جو انگلش میں پورے پورے ہیں اُن کے لیے یہ ترجمہ شدہ کتاب خاصی اہم ہے کیونکہ یہ کتاب اپنے...

News Elementor

Right Info Desk – A Different Perspective

Popular Categories

Must Read

©2025 – All Right Reserved by Right Info Desk