NE

News Elementor

What's Hot

میاں رضا ربانی کی آنکھ سے اوجھل ”اوجھل لوگ“

Table of Content

Author

”سفید جھاگ اس کے ہونٹوں کو ڈھانپ لیتا ہے ایسے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے اپنے خالق سے مکالمہ شروع کر دیا ہے جبکہ وہ رک رک کر بڑبڑاتا ہے کیامیں اس ریاست کا شہری ہوں کیا آٸین کے یہ حقوق، ہر شخص سے اس کی صلاحیت کے مطابق، ہر شخص کو اس کے کام کے مطابق کا اطلاق مجھ پر نہیں ہوتا، کیا میرے بچوں کے مقدر میں غلامی لکھی ہے؟“اس افسانے کا مرکزی کردار ایک کاٹن فیکٹری کا بیمار مزدور ہے ۔ اسے ہسپتال میں داخلہ بھی مشکل سے ملتا ہے اور مکمل علاج سے پہلے ہی ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا جاتا ہے۔ افسانے کا کمزور پلاٹ یہ بھی ظاہر کرتا ہےکہ افسانہ بس ایک ٹرک تھا جس پر مذہب اور طبقاتی شعور کے وزن کو لادا گیا۔ اگر بغور تمام افسانوں کو دیکھا جاۓ تو تمام افسانے بطور لووڈر ٹرک طبقاتی شعور کندھوں پر لادے اپنے طبقاتی انجام کی طرف رواں دواں ہیں۔ ایک اور افسانہ ”کشید کی ہوٸی زندگی “ بھی کچھ اسی نوع کےمسٸلے کا شکار ہوتا نظر آتا ہے جس کا شکار باقی افسانے ہوے۔ افسانے کا مرکزی کردار جان نامی لڑکا ہے جسے گھر کے حالات کے سبب ایک کوٹھی میں بطور ملازم کام کرنا پڑتا ہے، جہاں وہ امرا کے لاٸف سٹاٸل دیکھ کر بھونچکا رہ جاتا ہے۔ وہیں ایک رانی نامی ملازمہ عورت میں دلچسپی لینے لگتا ہے لیکن جب اسے یہ معلوم ہوتا ہے کہ رانی اسے اپنے بیٹے جیساسمجھتی ہے تو وہ شدید مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے ۔ بیٹا کہلوانے کے کچھ ہی دن بعد کوٹھی کے سامنے سے یکم مٸی کا جلوس گزرتا ہے جس میں انقلاب کی آمد کے نعرے لگاۓ جا رہے ہوتے ہیں۔ جان سب کام چھوڑ کر یکم مٸی کے جلوس میں شامل ہوکر اپنی پچھلی زندگی سے ربط توڑ کر نٸی منزلوں کا مسافر بن جاتا ہے۔ یہ افسانہ ایک بہترین مثال ہے افسانے کو اس کے منطقی انجام سے دور کرنے کی۔ افسانہ جس طرح ایک بڑی عمر کی عورت اور کمسن لڑکے کی یک طرفہ محبت سے انقلاب کی طرف مڑا ہے اس سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ افسانہ نگار فکشن کی منطق کی بجاۓ اپنی جامد منطق کے زیر سایہ لکھ رہا ہے۔ البتہ پوری کتاب میں ایک افسانہ ایسا ہے جو فکشن کی منطق کے زیر اثر ہے وہ افسانہ ہے ”پیاروں کی موت ہمیں بھی ساتھ لے جاتی ہے“ اس افسانے میں مرکزی کردار اپنے مرے ہوۓ ماں باپ کو یاد کرتے ہوۓ اپنے احساسات کو بیان کر رہا ہے۔ یہ افسانہ کسی سنے سناۓ دکھ کا اظہار نہیں ہے اس افسانے کا دکھ ہڈی بیتی اظہاریہ ہے جو پوری شدت سے قاری پر وارد ہوتا ہے ۔ اردو ادب میں اس موضوع کو لے کر درجنوں افسانے ہیں لیکن یہ افسانہ اپنے اظہار کی تازگی اور اپنوں سے بچھڑنے کے آفاقی دکھ کو پوری شدت سے بیان کرتا ہے۔ یہ کتاب شاید سندھی زبان میں لکھی گٸی ہے جس کا اردو ترجمہ ندیم اختر نے کیا ہے

عبدالوحید

editor@rightinfodesk.com

افسانہ نگار

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Recent News

Trending News

Editor's Picks

عالمی آرڈر مکمل طور پر ختم ,وینیزویلا پر حملہ

Author Ammar Ali Jan Pakistani Political Activist and Historian. آج عالمی آرڈر مکمل طور پر ختم ہوچکا ہے۔ کئی ماہ سے امریکہ وینیزویلا کی حکومت پر منشیات کی سمگلنگ کا الزام لگا رہا تھا۔ آج بغیر کسی عالمی تحقیقات کے امریکہ نے نہ صرف وینیزویلا پر حملہ کیا، بلکہ یہ بھی دعوہ کیا کہ اس...

“گوشت” ناول مین بکر انعام جیت گیا۔

Author Dr. Furqan Ali Khan Medical doctor, activist ,writer and translator ” گوشت ” ایک غیر روایتی غربت سے دولت مند ہونے تک کی کہانی ہے۔ اس کتاب کا مرکزی کردار،” استوان ” کی کہانی کے ساتھ کھلتی ہے، جو کہ ہنگری کے ایک ہاؤسنگ پروجیکٹ میں رہنے والے ایک شرمیلا اور عجیب و غریب...

کچھ ایرانی ناول” اکائی”(منِ او) کے بارے میں

Author عبدالوحید افسانہ نگار ایرانی ناول “اِکائی ” (فارسی نام منِ او) نوے اور دوہزار کی دہائیوں کا ایران میں سب سے زیادہ پڑھا جانے والا ناول ہے۔ اِس کے لکھاری رضاامیر خانی ہیں جنھیں ایران کے سب سے بڑے ادبی ایوارڈ” جلال آل احمد ایوارڈ “سے نوازا جا چکا ہے، ایران میں خاصے مقبول...

خالد فتح محمد کی دو طویل کہانیاں

Author عبدالوحید افسانہ نگار خالد فتح محمد ہمارے عہد کا جانا پہچانا نام ہے۔ پاکستان میں پچھلے بیس سالوں میں جتنا فکشن کا کام اُن کاسامنے آیا ہے شاید ہی کسی اور کا ہمارے سامنے آیا ہو۔ ابھی حال ہی میں ان کی دو طویل کہانیوں پر مبنی کتاب ” 2 طویل کہانیاں ” کے...

ٓ کتاب استعمار اور محکوم پر ایک اظہاریہ

Author عبدالوحید افسانہ نگار ابھی حال ہی میں البرٹ میمی کی شہرہ آفاق کتاب colonizer and colonized کا اردو ترجمہ جناب وقار فیاض صاحب نے” استعمار اورمحکوم “کے عنوان سے کیا ہے۔ مجھ جیسے لوگ جو انگلش میں پورے پورے ہیں اُن کے لیے یہ ترجمہ شدہ کتاب خاصی اہم ہے کیونکہ یہ کتاب اپنے...

News Elementor

Right Info Desk – A Different Perspective

Popular Categories

Must Read

©2025 – All Right Reserved by Right Info Desk